جماعت احمدیہ کے معرو ف اسکالر جناب انصر رضا صاحب کے ساتھ میرا مناظرہ نہایت کامیاب رہی واٹسن سلیم گل،

جماعت احمدیہ کے بانی اور ان کے نبی یہ دعوا کرتے ہیں کہ مسیح ابن مریم صلیب سے زندہ اتارے گئے اور ہندوستان چلے گئے ہاں وہ 120 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ میں نے ان کے دعوے کو چیلنج کیا اور کہا کہ وہ مرزا کی کتاب ” مسیح ہندوستان میں ” ثابت کریں۔ میرا یہ دعوا ہے کہ جناب انصر رضا صاحب ثابت کرنے میں ناکام رہیں ہیں۔ ویسے یہ بہت آسان ہے کہ میں کہوں کہ وہ ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں اور وہ میرے متعلق یہ ہی بات کریں۔ اس کے لئے جناب انصر رضا صاحب نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس مناظرے کو ریکارڈ کریں گے۔ انہوں نے ریکارڈ تو کیا ہے مگر میری آواز بہت کم ہے۔ میں نے بھی ریکارڈنگ کی ہے ، چونکہ میں ٹیکنیکی اعتبار سے اتنی طویل ویڈیو کو یوٹیوب پر اپ لوڈ کرنے میں کُوڑ مغز ہوں۔ اس لئے میں نے جناب گیسپر ڈانئیل صاحب سے مدد طلب کی ہے ۔ ویسے اس مناظرے سے پہلے میں نے جناب انصر رضا صاحب سے درخواست کی تھی کہ ہمارے مناظرے میں ایک غیر جانبدار پینل ہونا چاہئے۔ جس میں اہل تشعیہ، اہل سنُت، جماعت احمدیہ اور مسیحی دوست موجود ہونے چاہیں۔ بلکہ میں نے چند دوستوں جن میں باقر بھائ، افتخار احمد، محمد رمضان، علی عباس، کلیم سلیم، اعجاز میتھیو زوالفقار اور کچھ دوستوں کو دعوت دی تھی۔ مگر جناب انصر صاحب نے کہا کہ میرے اور ان کے علاوہ کوئ تیسرا شخص نہی ہونا چاہئے۔ میں نے ان کی یہ بات بھی قبول کر لی۔ ہماری بات چیت اچھے ماحول مین ہوئ۔ آخر میں جناب انصر صاحب نے مجھ سے کہا کہ وہ ایک ڈبیٹ بائبل کی سچائ کے حوالے سے کرنا چاہتے ہیں۔ تو میں ان سے یہ کہنا چاہونگا کہ ہمیں ان مناظرے کے لئے وہ موضع منتخب کرنے چاہئے جن میں ہمارا آپسی اختلاف ہو۔ اب بابئل سچی ہے یا جھوٹی اس پر کسی احمدی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہی ہے۔ کیونکہ یہ ہمارا مسلئہ ہے۔ ہاں احمدی ان موضوعات پر ہمیں چیلنج کر سکتے ہیں جن میں ہم مسیحی ان کے عقیدے کے خلاف کچھ کہتے ہیں یا احمدی ہمارے خلاف کوئ بات کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مرزا صاحب اپنے آپ کو مسیح کہتے ہیں۔ یا مرزا صاحب نے مسیح ابن مریم کو گالیاں دیں ہیں ، یا مرزا صاحب نے اپنی آمد کو انجیل سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے یہ تمام موضوعات ہیں جن پر ہم کو مناظرہ کرنا چاہئے۔ اور میں اس کے لئے ہر وقت تیار ہوں۔

Advertisements