میں جناب انصر رضا صاحب کے چیلنج کا انتظار کر رہا ہوں۔ جس میں وہ دعوا کرتے ہیں کہ وہ انجیل سے مسیح ابن مریم کے زندہ صلیب سے اترنے کو ثابت کریں گے واٹسن سلیم گل،

جیسے کہ آپ جانتے ہیں کہ مسیح ہندوستان میں کہ موضع پر جماعت احمدیہ کہ ایک معروف عالم دین جناب انصر رضا صاحب سے میرا ایک مناظرہ ہوا جسے یوٹیوب پر آپ سب دیکھ رہے ہیں۔ فیصلہ دیکھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔ بس یہ کہہ سکتا ہوں کہ محترم جناب مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کی طرح جناب انصر رضا صاحب بھی سوائے قیاس آرائیوں اور شکوک کے کوئ ثبوت نہی دے سکے کہ مسیح ابن مریم صلیب سے زندہ اترنے کے بعد ہندوستان ہجرت کر گئے۔ انصر رضا صاحب نے چند کتابوں کے ریفرنس دیئے جن کا جواب میں ان سے دوبارہ مناظرے تک محفوظ رکھتا ہوں۔ جناب انصر رضا صاحب نے کہا ہے کہ مناظرے میں وقت کی قلت کے سبب وہ اپنے دلائل پوری طرح سے نہ دے سکے لہزا وہ انجیل مقدس سے مرزا صاحب کے دعوے کو سچ ثابت کریں گے۔ میں نے ان کا چیلنج قبول کیا ہے ۔ مگر ایک ہفتے سے زائد وقت گزر گیا ہے اور مجھے ان کی جانب سے کوئ تاریخ اور وقت نہی ملا ہے۔ اگر وہ اپنا چیلنج واپس لینا چاہتے ہیں تو لے سکتے ہیں۔ میں انصر رضا صاحب اور جماعت احمدیہ کے علماءکرام کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ” مسیح ہندوستان میں” کتاب کے ایک ایک صفحے پر باقائدہ تحقیق کریں ۔ ان کو سچائ ضرور ملے گی۔ ہم جب مقدس ہستئیوں کا زکر کرتے ہیں تو ہمیں ان کے متعلق قیاس آرائیوں سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اگر ہم مقدس کتابوں کو پیچھے چھوڑ کر محض مخالف کُتب کا سہارہ لے کر مقدس ہستئیوں پر بہتان یا غلط بیانی کریں گے تو اس طرح کی کتابیں صرف مسیح ابن مریم کے خلاف ہی نہی ہیں بلکہ اسلام کے مخالفین رسول عربی کے خلاف بہت کچھ لکھتے ہیں۔ ہندو ، سکھ، زرتشت، بدھ سب کے خلاف کچھ نہ کچھ مل جائے گا۔ اور مرزا صاحب کے خلاف تو بہت سی کتب موجود ہیں تو کیا میں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ مرزا صاحب جھوٹے نبی ہیں ان کتابوں کا سہارا لے لوں۔ نہی!! اگر مجھے مرزا صاحب کو غلط ثابت کرنا ہو گا تو میں ان کی کتابوں سے ان کو غلط ثابت کرونگا۔

Advertisements