تھائ لینڈ کے بعد اب ملیشیا میں بھی پاکستانی مسیحی پناہ گزئینوں کو مشکلات کا سامنا ،واٹسن سلیم گل،

ملیشیا کی حکومت نے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر سے مطالبہ کر دیا کہ وہ اسالئم کی درخواستوں کو منسوخ کرے اور اجازت نامے جاری کرنے سے قبل مرکزی حکومت سے مشورہ کرے۔ مرکزی حکومت کے نمایندے شری شہادین قاسم نے اقوام متحدہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ادارہ وزارت داخلہ سے پوچھے بغیر درخواستیں موصول نہی کر سکتا۔ حکومتی ترجمان نے مضید کہا کہ ملیشیا نے جنیوا ٹریٹی برائے 1951 پر دستخط نہی کئے اس لئے وہ اس کا پابند نہی ہے۔ جناب شری قاسم صاحب نے کھُل کر کہا ہے کہ وہ اب مہاجرین کا مضید بوجھ برداشت نہی کر سکتے۔ اس سے ہمارے امن پسند ملک میں جرائم بھی بڑھ رہے ہیں۔
ملیشیا سے چند دوستوں نے فون کیا اور پیغامات بیجھے جن میں جناب جان پرویز ملک بھی شامل ہیں۔ کل بروز جعمرات کو ملیشا کی پاکستانی کمیونٹی کی میٹینگ بھی متوقع ہے ۔ ملیشیا میں ہماری کمیونٹی نے اپنے خدشات کا زکر کیا ہے۔ مجھے نہی معلوم کہ یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ مگر ایک بات جس پر میں آج بھی قائم ہوں اور یقین رکھتا ہوں کہ ان مشکلات کا واحد حل ہمارا اتحاد ہے۔ تھائ لینڈ اور ملیشیا میں ہمارے بہن بھائ نہایت ازیت میں ہیں۔ اور ہم کچھ نہی کر پا رہئے ہیں سوائے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر زبانی جمح خرچ کرنے سے کچھ نہی ہو گا۔ ایک اور بات کہنا چاہونگا۔ کہ کوئ بھی فرد واحد، تنظیم واحد، چرچ واحد ان مسائل کو حل نہی کر سکتے کہ جب تک ہم مل کر یکجا اور متحد ہو کر ان مسائیل کی طرف توجہ نہ دہین۔۔ میری تمام یورپ کے سیاسی، سماجی اور مزہبی راہنماؤں سے درخواست ہے کہ خدارا آگے آؤ اور مل کر ہماری راہنمائ کرو۔ ہم آپ کے پیچھے ہیں۔

Advertisements