توہین رسالت کے قانون کی آگ نے ایک اور مسیحی خاندان کی خوشیوں کو آگ لگا دی۔ پرویز مسیح کو گرفتار کر لیا گیا۔
victim of Police torture Sumaira Fiaz
وائس سوسائٹی کی روح رواں ایڈوکیٹ ماریہ عنیقہ ، شاہد انتھونی، نپولیئن قیوم، عمران برکت اور عمران ظفر کے ساتھ جب اس معاملے کی چھان بین کے لئے اس اس گاؤں میں پہنچے تو رات کے وقت واپسی پر گھات لگائے پولیس نے اس ٹیم کو پکڑ کر بٹھا لیا اور گھنٹوں بغیر کسی جرم کے حراست میں رکھا ، بعد میں گھڈیاں پولیس اسٹیشن کے انچارج ے آنے کے بعد چھوڑا گیا
TVS TEAM along with Pervaiz's family..Pervaiz's wife and children
۔ پولیس کا رویہ انتہائ غیر مناسب تھا۔ وائس سوسائٹی کی ٹیم دھمکیوں کے باوجود دوبارہ اس گاؤں میں پہنچی اور حالات جاننے کے لئے کچھ مسیحیوں سے رابطہ کیا۔ (ہم حفاظتی اقدامات کے تحت ان کا نام شایع نہی کر رہے ہیں) ۔ ان مسیحیوں نے بتایا کہ تنازعہ ایک بلڈینگ کی تعمیر پر ریت کی سپلائ کے ٹھیکے کی وجہ سے ہوا۔ یہ ٹھیکہ پرویز مسیح کو ملا کیونکہ وہ ایمانداری سے وقت پر رہت سپلائ کرتا تھا۔ اس ٹھیکے کو ہاتھ سے جاتے دیکھ کر حاجی بشیر اور حاجی جمشید چراغ پا ہو گئے اور پرویز مسیح کو سبق سکھانے کی ٹھانی اور علاقے میں یہ بات پھیلا دی کہ پرویز مسیح نے رسول عربی کی شان میں گستاخی کی ہے۔ اس پر پولیس اور مسلمان مومنین نے علاقے کو گھیر لیا۔ پولیس نے پرویز مسیح کے خاندان کے کچھ لوگوں کو حراست میں لیا۔ جس پر پرویز مسیح کو کہ روپوشی میں تھا ، اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس پر توہین رسالت کی دفعہ 295/سی کے تحت مقدمہ قائم کر دیا گیا۔
ہم پرویز مسیح کے ساتھ اس شرمناک سلوک کی سخت مزمت کرتے ہیں۔

Advertisements