وزیر مملکت برائے مزہبی امور پیر امین الحسنات اور خالد سلطان قادری کا بیان کہ” پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ حاصل ہے” جھوٹ کا پلندہ ہے، واٹسن سلیم گل،

پاکستان کے سب سے بڑے اردو اخبار میں چھپنے والے الگ الگ بیانات میں دونوں موصوف دعواہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کو برابر کے آیئنی اور سماجی حقوق حاصل ہیں۔ ن لیگ سے تعلق رکھنے والے وزیر مملکت برائے مزہبی امور اور ہم آہنگی جناب پیر امین الحسنات نے اپنے برطانیہ کے دورے پر ایک ڈنر کے موقع پر کہا کہ اقلیتیں بلکل محفوظ ہیں ۔اس ڈنر میں یوروپیئن پارلیمنٹ کے ممبر افضل خان سمیت پاکستان کی معروف سیاسی سماجی شخصیات بھی موجود تھیں۔ دوسرے بیان میں پیر خالد سلطان قادری صاحب نے بھی ایک عشایئے میں یہ بیان دیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور اقلیتیں پاکستان میں محفوظ ہیں۔ اس عشایئے میں بھی یوروپیئن پارلیمنٹ جناب افضل خان سمیت پاکستان اور برطانیہ کے تمام مکاتب فکر کی سماجی ، سیاسی اور مزہبی شخصیات موجود تھیں۔
Discrimination_Sign
یہ بیانات سراسر غلط اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ پاکستان میں اقلیتیں خصوصی طور پر مسیحی قوم کے ساتھ متصبابہ رویہ عام سی بات ہے۔ مسیحی خواتین کو زبردستی اغوا کر کے مسلمان بنا کر شادی کرنے کے سینکڑوں واقعات ہیں۔ جن میں ان کو انصاف نہی ملتا۔ مسیحی قوم کو مسلمان بستیوں سے الگ بستیاں بنا کر دہیں جاتی ہیں جیسے عہد عتیق میں کوڑیوں کو معاشرے سے الگ رکھا جاتا تھا۔ پاکستانی کرسچن کمیونٹی ان بیانات کی پُر زور مزمت کرتی ہے۔ اور میں چیلنج دیتا ہوں کہ یہ دونوں حضرات کسی بھی پلیٹ فام پر یہ ثابت کر دیں کہ مسیحیوں کو پاکستان میں برابری کے حقوق حاصل ہیں۔ پاکستان میں تو مسیحیوں کو اپنی پسند کا نمایندہ چُننے کا حق نہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی جماعتیں چند ضمیر فروش مسیحوں کو ساتھ ملا کر ان کو مسیحوں کے سر پر مسلط کر دیتی ہیں۔ میں دعوا کرتا ہوں کہ اگر سچ جاننا ہے تو پورے پاکستان میں مسیحوں کا ایک ریفرنڈم کروا کر دیکھ لو۔ ان سے دو سوال پوچھو، 1 کیا مسیحوں کو اپنے نمایندے منتخب کرنے کی آزادی ہے ؟ ۔ 2 کیا مسیحوں کو پاکستان میں برابری کے حقوق حاصل ہیں ؟۔ جواب آپ کو مل جائے گا۔ اسکے باوجود بھی ہم پاکستانی ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سسٹم کے خلاف سہی مگر سرزمین پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ اور اگر سچ بولنے کی کوئ سزا ہے تو اس کے لئے بھی تیار ہیں۔ مگر خدارا مزہبی ہم آہنگی کے جھوٹے پروپیگنڈے سے اقلیتوں کو مضید نقصان ہو رہا ہے۔ کیونکہ مزہبی آہنگی کے نام پر ہونے والی میٹینگز اور کونوینشنز سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ان کے بہت اچھے نتائج نکل رہے ہیں ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا رزلٹ صفر ہے۔ مزہبی ہم آہنگی کی ضرورت عام مسلمان اور مسیحی کے درمیان فرق کو مٹانے کی ہے۔ غلام محمد اور غلام مسیح کو ساتھ بٹھانے کی ہے ۔ قوانین میں ترمیم کر کے ، نصابی کتب سے مزہبی تفریق ختم کرکے تو یہ تفریق ختم ہو سکتی ہے مگر بڑے بڑے ہوٹلوں میں اور یورپ و برطانیہ کے دوروں میں میٹینگز کرنے سے یہ تفریق کبھی ختم نہی ہو گی

Advertisements