پاکستان میں صفائ کے کام کے لئے صرف اقلیتوں کو مخصوص کرنا کیا مزہبی تفریق نہی ہے؟؟ واٹسن سلیم گل،
11984446_1030134833692893_850772054_o
صوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور کے پنجاب انسٹٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے کو اخباروں میں نوکریوں لیے ایک اشتہار شائیع کیا جس میں سکیورٹی گارڈ، لفٹ آپریٹر، وارڈ بوئے، آیا ، خاکروب مرد، خاکروب خواتین وغیرہ کے لیے امید وار طلب کیے گیے ہیں۔ اس اشتہار میں صاف طور پر خاکروب کی نوکریوں کے لئے صرف اقلیتوں سے درخواستیں طلب کی گئ ہیں۔ جو کہ مزہبی تفریق کی ایک بدصورت مثال ہے۔
کیا صفائ کے کام کو صرف اقلیتوں کے ساتھ جوڑنا ان کو معاشرے سے علیحدہ کرنے کی گھنونی سازش نہی ہے۔ ؟ کیا یہ حرکت پاکستان کے پارلیمان میں بیٹھے ہوئے مسیحی نمایندوں کے منہہ پر طماچہ نہی ہے جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں مسیحیوں کے ساتھ کوئ مزہبی تفریق نہی ہے۔
(مجھے افسوس ہے کہ یہ خبر سب سے پہلے مجھے پاکستان سے بیجھی گئ تھی۔ 16 سپتمبر کو یہ اشتہار شایع ہوا اور اسی شام کو مجھے یہ خبر حکومت پنجاب کے اشتہارات اور چند کاغزات کے ساتھ مجھ تک پہنچی مگر نجی مصروفیات کی وجہ سے میں یہ بد خبر آپ تک وقت پر نہی پہنچا سکا جس کے لئے معزرت چاہتا ہوں