ہم تھائ لینڈ میں موجود پاکستانی مسیحی تارکین وطن کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے، تھائ لینڈ سفارتکار برائے نیدر لینڈز ،
12116035_10153616809657165_685716566_o۔۔12162161_10153616287952165_689744457_o
پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی کے ایک وفد نے نیدرلینڈ کے شہر دی ہیگ میں واقع تھائ لینڈ کے سفارتخانے میں ڈپٹی چیف مشن سے ملاقات کی اور انہیں تھائ لینڈ میں موجود پاکستانی مسیحیوں کے حالات پر اپنے شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔ کمیونٹی وفد نے سفارتکار سے درخواست کی کے تھائ لینڈ میں پاکستانی مسیحوں کی بلاوجہ گرفتاریوں کو روکا جائے۔ اور چھوٹے بچوں کو حراستی مراکز میں رکھنا بین الاقوامی قوانین کی شدید خلاف ورزی ہے۔ تھائ لینڈ کے ڈپٹی چیف مشن جناب عاصی ممانے نے کہا کہ تھائ لینڈ میں تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے جس کی وجہ سے مشکلات ہیں مگر ان کی حکومت پوری کوشش کرے گی کہ پاکستانی مسیحیوں کے ساتھ پیش آنے والے مشکلات کو دور کیا جائے۔ پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی کے وفد میں شامل گیسپر ڈانیئل نے کمیونٹی کی جانب سے ایک پٹیشن بھی پیئش کی اس کے علاوہ کلیم سلیم ، پاسٹر پرویز اقبال ، جمشید ملک ، یونس ولیئم ، عابد شکیل ، بوبی بوب اور واٹسن سلیم گل ااس وفد میں شامل تھے ۔
12119649_10153616287352165_444064275_o۔۔12119364_10153616809537165_2127624164_o
تھائ لینڈ ، ملیشیا اور سری لنکا میں پاکستانی مسیحی تارکین وطن کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے خلاف شروع کی جانے والی تحریک جس میں ہالینڈ ، بیلجئم ، اٹلی، سپین ، برطانیہ ، ڈنمارک ، سویڈن ، سوئٹزرلینڈ اور فرانس کی پاکستانی مسیحی کمیونٹی بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔ اس تحریک کے پہلے حصہ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم یورپ میں اپنے اپنے ملکوں کے سفارتخانوں میں اپنا احتجاج پٹیشن کی صورت میں ریکارڈ کرواہیں گے۔ نیدرلینڈ کی پاکستانی کرسچن کمیونٹی کی تھائ لینڈ کے ڈپٹی چیف مشن سے ملاقات ہماری تحریک کا پہلا حصہ تھا۔