ثمینہ فیصل کی تھائ لینڈ میں افسوسناک موت ہمارے نام نہاد (میر جعفر) سیاسی لیڈرز کے منہہ پر شرمناک طماچہ ہے، واٹسن سلیم گل،
ایک بدقسمت خاتون جس کی بچی اس دُنیا میں آنے سے قبل ہی اس کے رحم میں جہان فانی سے کوچ کر گئ تھی۔ یہ خاتون جو کہ جسمانی اور زہنی طور پر بیمار ہو چکی تھی۔ انتہائ خستہ حالت میں جیل میں قید کر دی گئ خود بھی جان کی بازی ہار گئ ۔ اس کا قصور یہ تھا کہ یہ پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے غیر منصفانہ سلوک کے خلاف اپنا ملک چھوڑ کر آزادی کی تلاش میں تھائ لینڈ پہنچی اور پھر بین الاقوامی قوانین کے چیمپیئن ممالک کی منافقت کا شکار ہو گئ۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کہتے ہیں کہ 12 سال سے کم عمر کے بچوں کو آپ اس طرح جیلوں میں قید نہی کر سکتے ۔
Samina2
ہمارے نام نہاد پاکستانی لیڈرز بیرون ممالک آ کر ہمارے مسیحی تارکین وطن کی پیٹھ میں چُھرا گھونپتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں مسیحی برابر کے حقوق رکھتے ہیں۔ اور مسیحیوں کے ساتھ کوئ امتیازی سلوک نہی ہے۔ یہ جب بھی یورپ میں آکر اس طرح کے بیانات دیتے ہیں اس کا اثر ہمارے مسیحی مہاجرین کے کیس کو خراب کرتا ہے۔ بلکہ یو کہنا چاہئے کہ یہ یورپ میں آتے ہی اس لئے ہیں۔
میں ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک نئے پاسٹر ولئیم پیغانی صاحب کا شکرگزار ہوں کہ جو کہ خود بھی گوجرا سانحے کے چشم دید گواہ ہیں اور ہالینڈ میں ایک نئے چرچ کے بانی اور پاسٹر ہیں ۔ اور ان کا چرچ تیزی کے ساتھ ترقی کر رہا ہے۔ پاسٹر پیغانی نے مجھے فون کیا اور بھرائ ہوئ آواز میں اس واقعے کے متعلق ہماری کمیونٹی کی خاموشی کا گلہ کیا ۔ اور مجھے کہا کہ ہمیں خاموش بیٹھ کر مجرم بننے کے بجائے اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے۔ اور کمیونٹی کو متحد کرنے کے لئے اپنی کوشش جاری رکھنی چاہئے ۔ میں نے پاسٹر ولئیم پیغانی کا پیغام اپنے چرچ دی لیوینگ اسٹون میں کلیسیا تک پہنچایا ۔ پاسٹر ندیم دین جو ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتے ہیں انہوں نے بھی کلیسیا سے متحد ہو کی تعاون کرنے کی درخواست کی۔ میں پاسٹر ندیم دین ، پاسٹر ولئیم پیغانی اور اوینجلسٹ مائیکل ولیئم کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جو کمیونٹی کت اتحاد اور یکجہتی کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں۔ میں دوسرے چرچ کے پاسٹرز سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ خدارا یکجہتی کے لئے اپنا مضبوط کردار ادا کریں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کمیونٹی کو متحد دیکھنا چاہتے ہیں ۔

Advertisements