جینیوا (سویٹزرلینڈ) کے حکام کی جانب سے 4 مارچ کے مظاہرے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے یہ مظاہرہ ملتوی کیا جارہا ہے۔ واٹسن سلیم گل،
تھائ لینڈ میں پاکستانی مسیحی تارکین وطن کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف یورپ اور برطانیہ کے پاکستانی مسیحیوں نے ایک تحریک کا اعلان کیا ہے ۔ جس میں پہلے حصے میں یورپ کے ممالک میں قائم تھائ لینڈ کے سفارتخانوں میں آواز بلند کی جائے گی اور ہماری کمیونٹی کے وفود تھائ لینڈ کے حُکام سے درخواست کریں گے کہ وہ ہمارے تارکین وطن بہن بھائیوں کے ساتھ ہونے والے نارواں سلوک کو روکیں ۔ ان کو حقیقی مہاجر تصور کیا جائے ۔ اور ان کو خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جاہیں ۔ ہالینڈ ، بیلجئم ، اٹلی ،سپین اور برطانیہ کے مسیحیوں نے اس حوالے سے شاندار کردار ادا کیا ہے ۔
اس حوالے سے سکائپ میٹینگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہم 4 مارچ کو جینیوا میں یو این ایچ سی آر کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔ اور کمیونٹی کا ایک وفد جس میں سرور بھٹی (اٹلی)، جمشید صفدر (سپین)، کلیم سلیم (ہالینڈ) ، لطیف بھٹی اور خالد چوہدری (بیلجئم) ، ظفر اقبال (ناروے)، نواز سلامت (ڈنمارک)، تسکین خان اور نعیم واعظ (برطانیہ) پاسٹر سمیوعیل سرویا (سویٹزرلینڈ) شامل تھے ۔ ہمارے وفد کی میٹینگ یو این ایچ سی آر حُکام کے ساتھ فکس کرنے کی زمہ داری جمشید صفدر (سپین) کے ہاتھ میں تھی ۔ جو بہت احسن طریقے سے نبھائ گئ ۔ جینوا میں ہمارے مظاہرے کی اجازت حاصل کرنے کی زمہ داری پاسٹر سمیوعیل سرویا (سویٹزرلینڈ) کے ہاتھ میں تھی۔ انہوں نے بھی اپنے طور پر بخوبی اس زمہ داری کو پورا کیا ۔ فون اور ای میل کے زریعے سے اجازت مانگی ۔ جس کے ای میل کے جواب میں جینوا کے حکام نے ان سے انتظار کرنے کو کہا۔ جواب میں تاخیر پر راقم الحروف یعنی میں نے بھی جینوا کے حکام سے فون اور لیٹر کے زریعے رابطہ کیا ۔ مجھے فون پر یہ کہا گیا کہ چونکہ اس وقت شام اور دیگر عرب ممالک کے تارکین وطن کا ایک بہت بڑا سمندر یورپ میں موجود ہے اس لئے تمام ادارے مصروف ہیں ۔ مگر مجھے بھی ایک ای میل کے زریعے انتظار کرنے کو کہا گیا ۔ اور یہ انتظار آج تک جاری ہے۔
چونکہ مطاہرین نے جینیوا کے مظاہرے میں شرکت کے لئے اپنے انتظامات کرنے تھے۔ اور ٹکٹس خریدنے تھے مگر آج بروز جمعہ 26 فروری تک اجازت نہ ملنے کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ چونکہ آگے ہفتہ اور اتوار کے بعد ہمارے پاس وقت بہت کم ہوگا ۔ اور اتنے کم وقت میں پورے یورپ سے لوگ نہی پہنچ سکیں گے۔ لہزا اسے وقتی طور پر ملتوی کیا جائے۔ اور ساتھ ہی ہم نے احتجاجی طور پر یو این ایچ آر سی کے ساتھ اپنے وفد کی میٹینگ بھی ملتوی کر دی ہے۔ ہم جلد ہی اس حوالے سے ایک نئ تاریخ کا علان کریں گے۔
اس مظاہرے کے ملتوی ہونے کا اعلان باہم مشورے کے ساتھ کیا گیا ہے جن میں سروربھٹی (اٹلی) جمشید صفدر (سپین) تسکین خان (برطانیہ) چوہدری خالد (بیلجئم) جمشید ملک ، بوبی بوب، یونس ولیئم ، سسل جیمس (نیدرلینڈز) کے علاوہ اور بھی بہت سے دوست شامل ہیں ۔

Advertisements