یہ قانون ہے

آج ایک بہت متنازعہ موضوع پر بہت سی خبریں کمنٹ اور ویڈیوز دیکهنے اور سننے کو ملیں ، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی یا کسی بهی قسم کی توہین یا قرآن کریم یا دینِ اسلام پر کوئی بے حرمتی کرے یہ مسیحیوں نے کبهی سوچا بهی نہیں اور نہ ہی کرنے کی جسارت کرتا ہے پاکستان میں کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ اس طرح ہر دو مذاہب میں دوری اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے ، پاکستان میں حالات خراب ہوتے بلکہ خراب کئے جاتے ہیں ویسے بهی کوئی مسیحی یہ کبهی بهی پسند نہیں کرتا کہ ایسا ہو ، توہینِ رسالت کے قوانین کو غلط استمعال کیا جاتا رہا ہے اور کیا جاتا ہے جِس کے لئے مسیحی ہی نہیں اکثر مسلم لوگ بهی نشاندہی کرتے ، اس پر تبصرہ کرتے اور غلط استمعال کی مخالفت کرتے ہیں جیسے سابق گورنر سلمان تاثیر نے کیا ،

آج بهی مسلم اور مسیحیوں کے مِلے جُلے بیانات سُنے اور پڑهے ، ایک مُسلم دوست نے کہا ” ممتازقادری کی پھانسی میرے لئے نہایت تکلیف دہ ہے ـ ممتازقادری کا یہ بیان ریکارڈ پر ہے کہ اس نے براہ راست سلمان تاثیر کو گستاخی کرتے نہیں سناـ بلکہ ایک مولوی حنیف قریشی کے اکسانے اور جذباتی کر دینے والے خطاب کو سننے کے بعد ، جس میں سلمان تاثیر کو قتل کردینے کیلئے اکسایا گیا تھا ، سلمان تاثیر کو قتل کر دیا ـ یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ ممتاز قادری کو بہکایا گیآ ـ اُسکی سادگی اور جذباتی پن سے فائدہ اٹھایا گیا اور اسکے نام پر پیسہ بنایا گیا

اُسکے معصوم بچے یتیم اور اسکی عفت مآب بیوی بیوہ ہو گئی لیکن ممتاز قادری جاتے جاتے کئی “کنگال” مولویوں کو کروڑ پتی بنا گیا یہی مولوی اب اسکے مزار کے مجاور بن کر بیٹھیں گے اور اپنی دولت میں اضافہ کرنے کا اپنا ” ٹارگٹ ” پورا کرنے کیلئے دن رات ایک کریں گے ” اُنکا یہ بهی کہنا ہے کہ ” اللہ رب العزت ممتاز قادری کی خطائیں معاف فرمائے اسکے درجات بلند فرمائے اور اسے اسکی محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جزاء عطا فرمائے ” ایک اور دوست نے کہا کہ اب گورنر کے قتل پر بطور انعام ثروت اعجاز قادری کو بیس کروڑ ، حنیف قریشی کو اپنی ساری جائداد اور حامد رضا کو ایک کروڑ ادا کرنا چاہیئے ، امیر دعوت اسلامی مولانا الیاس قادری صاحب کا بیان
” کسی مسلمہ چور کو رنگے ھاتھوں پکڑنے کے باوجود اسے مارنے کا حکم نہیں ھے بلکہ قانون کے حوالے کرنا ھو گا اسی طرح اگر کوئی واقعی گستاخ رسول ھے بھی تو اسے بھی کوئی مسلمان انفرادی حثیت میں قتل نہیں کر سکتا بلکہ اس کا فیصلہ قاضی کرے گا یہی اسلام کی تعلیم ھے اور یہی حکم ھمارے اکابرین نے بہار شریعت اور فتاوی رضویہ میں نقل فرمایا ھے.”

اصول تو یہی ھے ۔ اب ایک اور دوست کا ایک معصومانہ سوال ھے کہ اگر سلمان تاثیر گستاخ تھا تو کسی مولوی کا ایمان کیوں نہیں جاگا اس کی گردن اتارنے کے لئے؟
جہاد افغانستان میں بھی نہ مولوی جاتے تھے اور نہ انکے بچے …مولویوں کا کام بس مقتدیوں کے مذھبی جذبات اجاگر کر کے انکو مروانا ھوتا ھے.. اس لئے اسلام نے تعلیم دی ھے کہ پیر پرستی اور ملا پرستی سمیت ھر قسم کی اندھی تقلید سے بچیں . انکا یہ بهی فرمانا ہے کہ ” اندھی تقلید صرف اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جائز ھے. ”
غازی عِلم دین والے کیس کے وقت تحفظ ناموس رسالت کا قانون بھی نہیں تھا اور ریاست بھی اسلامی نہیں تھی…
اور غازی عِلم دین شہید کی اس کیس میں مد د کرنے والا این ڈی تاثیر تھا جسکا بیٹا سلمان تاثیر تھا ، اور غازی علم دین نے جس کو قتل کیا تھا اس نے مصدقہ گستاخی کی تھی جبکہ سلمان تاثیر نے اس معاملہ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر کوئی حرف نہیں اٹھایا تھا بلکہ قانون پر تنقید کی تھی جو انسانوں کا بنایا ھوا ھے قانون میں ترمیم تبدیلی یا اختلاف کرنا توھین کے زمرے میں نہیں آتا. اُس نے اِس قانون کو کالا قانون کہا تھا۔ اور اس قانون کے غلط استعمال کے پس منظر میں کہا ، بے شک یہ قانون حکومت پاکستان نے بنایا تھا اور اِس میں تبیلی کی جا سکتی ہے تاکہ اِس کے غلط اِستمعال کو روکا جاسکے ـ ایک اور مُسلم دوست کے کمنٹس ـ
” کچھ باتیں سوچنے کے قابل ہیں ۔

آسیہ بی بی خاتون جسے توھین رسالت کے جرم میں سزا ہوئی تھی ۔ وہ کون تھی؟۔ وہ ایک عام سی عیسائی اور غریب عورت تھی جس کی پہنچ اس جرم سے پہلے کسی کونسلر تک بھی نہیں تھی جب اسے توھین رسالت کیس میں سزا ھوگئی تو اس کے بعد اس سے ایک گورنر نے جیل کے اندر جا کر ملاقات کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ بیٹھ کرپریس کانفرنس کرتا ہے اسے پھانسی سے بچانے کا اعلان کرتا ہے صدرکی طرف سے معافی دلانے کی یقین دہانی کراتا ہے اور اس قانون کو بدلنے کا اعلان کرتا ہے۔
یہ سب تاریخ میں پہلی بار ہوتا ھے کہ ایک اقتدار پر موجود گورنر نے جیل کے اندر جا کر ایک عام سی غریب اور مجرم عورت سے ملاقات کی تھی۔ اور یہ سب کچھ کیا۔
آخر غریب آسیہ بی بی کے اندر کون سی خوبی تھی؟؟؟؟؟
کیا پاکستان میں اور بھی عیسائی خواتین و مرد حضرات نہیں رھتے جو غربت و افلاس کا شکار ھیں؟۔
کیا اس وقت جیلوں میں اوربھی عیسائی مرد و خواتین بند نہیں تھے؟۔
کیا اس عورت پر جرم ثابت نہیں ہوچکا تھا؟ اور کیا وہ عدالت میں خود بھی جرم کا اقرار نہیں کر چکی تھی؟؟؟
کیا اور بھی بہت سے لوگ سالہا سال سے جیلوں میں بند پھانسی کے منتظر نہیں تھے جن کی کوئی رحم کی اپیل نہیں سنی جا رہی تھی؟۔
کیا پاکستان بھرکی جیلوں میں معمولی جرائم میں بند ھزاروں عورتیں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ اس وقت قابلِ رحم زندگی نہیں گذار رہی تھیں؟ اور آج بھی گذار رہی ہیں ؟؟؟؟
آسیہ بی بی میں کیا خوبی تھی؟؟؟؟؟؟؟؟
آسیہ بی بی میں کیا خوبی تھی؟؟؟
آسیہ بی بی میں بہت بڑی خوبی تھی۔۔۔ نبی کریم کے دشمنوں کی نظر میں بہت بڑی خوبی تھی۔۔۔۔۔۔اس نے ان کی نظر میں بہت بڑا کام کیا تھا۔۔۔ اور ایسے ” بڑے کام ” کرنے والی کو سزا کیسے دی جا سکتی تھی؟۔ وہ تو نوبل پرائز کی مستحق تھی ”

اور ہم مسیحی یہ سمجهتے ہیں کہ یہ قانون ہے اِسے غلط اِستمعال نہ کیا جائے اور بے گناہ اور معصُوم لوگوں کو اِس کا نشانہ نہ بنایا جائے ذاتی رنجشوں کے لئے ، کِسی کی زمِین جائداد اور نوکری چهِیننے کیلئے ، کِسی خاتون سے ناجائز تعلق اِستوار کرنے یا دباؤ دیکر شادی کرنے کیلئے ـ معصُوم لوگوں کو جِن کا اِس طرح کے واقعات سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اُن کی خُون ریزی کی جاتی ہے ـ منظُور مسیح ، سلامت مسیح کے کیسوں میں جج تک کو بھی مار ڈالا گیا ـ سابقہ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امُور شہباز بھٹی کو دن دیہاڑے فائرنگ کرکے قتل کر یا گیا ـ بِشپ جان جوزف کو قانُون کے غلط اِستمعال پر اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے ـ جب سے یہ قانُون پاکِستان میں بنا ہے اِسے بڑی بے دردی اور بے رحمی سے اِستمعال کیا جاتا ہے ـ مسیحیوں کی تو کئی ہی مرتبہ اِس قانُون کے غلط اِستمعال پر زِندگیاں داؤپر لگی ہیں ـ گوجرہ ہو ، بادامی باغ ہو ، سانگلہ ہِل ہو ، باہمنی والا ہو یا پھِر درجنوں دیگر جگہیں اور واقعات اِس زُمرے میں آتے ہیں ـ صرف مسیحی ہی نہیں دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ مُسلمان بھی ایک بہت بڑی تعداد میں اِس کے تحت غلط طور پر پھنسائے گئے ہیں ـ اِس کا مطلب تو صرف یہ ہی نِکلتا ہے کہ صرف اِلزام لگاؤ بھلے وہ سچا ہے یا جھُوٹا ہو بقایا کام سب لوگ مُشتعل ہوکر خُود کروا لیں گے اور کر لیں ـ
ا
اگر اِلزام سچا ہے تو بر حال ہر صُورت میں سزا بلکہ عِبرت ناک سزا تو مِلنی ہی چاہیئے لیکن یہاں تو جھُوٹے اِلزام پر بھی لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دیتےہیں ـ رِمشامسیح کے کیس میں یہ واضح طورپر دیکھا جا سکتا ہے کہ بالکل ایسا ہی ہُوا ـ خالد جدون چِشتی نے مسیحیوں سے نفرت کے سبب کیسے ایک ذہنی معذور بچی کو خُود ثبُوتوں میں رد و بدل کر کے پھنسایا اور جب گواہیاں اُس کے خلاف نِکلیں تو رِمشا اور اُس کے گھرانے کو تو در بدر ہونا ہی پڑا پر خالد جدون کو بھی گواہوں کو مُنحرف کروا کر رہائی دِلوا دی گئی ـ اِس کیس سے تو بالکل یہ ثابت ہو گیا کہ کیسے غلط اِلزام لگایا جاتا ہے اور ذاتی دُشمنی اور گرج نکالا جاتا ہے ـ توہینِ رسالتؐ قوانین کے غلط اِستمعال پر پاکِستان میں مسیحیوں کی عبادت گاہوں ، گھروں ، بستیوں ، تعلیمی اداروں اور بائبل مُقدس کو جلانے اور اِس کی کھُلے عام بے حُرمتی کرنے کا ایک کھُلا سبب ہے ـ آسیہ مسیح کے اِس کیس میں دو لوگوں کی جان گئی ـ کیس بنانے والے اُکسانے والے تو اپنے گهروں اور خاندانوں میں محفُوظ اور خوش ہونگے اور آسیہ پابندِ سلاسل اور زِندگی سے نا اُمید ہوگی جبکہ اُسکے بچے اور خاوند بهی اذیت میں ہونگے ـ اِنصاف برحال آسیہ مسیح کو مِلنا چاہیئے ـ آسیہ مسیح کے لئے اِنصاف کب ؟؟؟؟؟؟؟؟

سیمسن طارق
موڈیسٹو کیلیفورنیا