ایک سکھ نے چھ مسلمانوں پر پاکستان میں توہین مزہب کا مقدمہ درج کروا کر پاکستانی مسیحی لیڈرشپ کے منہہ پر تماچہ مار دیا، واٹسن سلیم گل،
HTB14HkUFVXXXXaUaXXXq6xXFXXXt
پنجاب کے شہر چیچہ وطنی کی پولیس کے مطابق مہندر پال سنگھ نے درخواست میں کہا ہے کہ فیصل آباد سے ملتان کے سفر کے دوران جس بس پر وہ سفر کر رہے تھے اس کی مالک ٹرانسپورٹ کمپنی کے ملازمین نے ان سے بدسلوکی کی اور اس دوران ان کی پگڑی بھی زمین پر گرا دی گئی۔ مہیندر سنگھ کے مطابق پگڑی کی ان کے مذہب میں بہت اہمیت ہے اور یہ ان کے گرو کی توہین کے مترادف ہے۔
پولیس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ مہندر سنگھ کی درخواست پر نجی ٹرانسپورٹ کمپنی سے منسلک چھ افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 295 اور 506 کے تحت توہینِ مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مسیحیوں کی تعداد سکھوں سے کہیں زیادہ ہے۔ اور ہماری سیکنڑوں چرچز جن میں ہزاروں بائبلز، گیت اور زبور کی کتابیں اور دیگر مقدس اشیاء جلا کر راکھ کر دیں گئ مگر ہم ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے علاوہ کچھ نہی کر سکے۔ ہمارے لیڈرز اپنی اپنی ڈیڈھ انچ کی نہی بلکہ آدھے انچ کے چرچ بنا کر بیٹھے ہیں۔ سیاسی لیڈرز تو خودنمائ سے باہر نہی نکلتے ۔ مہیندر سنگھ ایک عام سکھ ہے ۔ کوئ لیڈر نہی ہے اور اس نے اپنے عقیدے کی غیرت میں اپنی جان کی پروا نہی کی اور ایک ایسا کام کر گیا جو ہم لاکھوں مسیح نہی کر سکے۔ وجہ یہ ہے کہ ایک ہم الگ الگ گروپوں میں تقسیم ہیں۔ اور منافقت کے کاموں کو قوم کی خدمت کا نام دیتے ہیں۔ خدا ہمیں عقل ، فہم عطا کرے۔ آمین۔