گجرات کے قصبے کالو محلہ سے تعلق رکھنی والی مسیحی خاتون سونیا بی بی ولد برکت مسیح توہین رسالت کے نرغے میں ، واٹسن سلیم گل،
download (1)
(رپورٹ عنیقہ ماریہ) گجرات کے محلے کالو پورا کی ایک مسیحی خاتون سونیا بی بی کو توہین رسالت کے مقدمے کا سامنا ہے اور وجہ وہی پرانی ہے کہ اگر کسی بھی مسیحی مرد یا عورت کی کسی سی بھی کوئ دشمنی یا لڑائ ہو جائے تو اس کے سر پر توہین رسالت کی تلوار لٹکا دی جاتی ہے۔ اس خاتون کا قصور یہ ہے کہ روڈ پر کسی نے الیکشن سے متعلق کچھ بینرز اور پوسٹرز پھینکے ہوئے تھے۔ جن کو اٹھا کر سونیا نے جوڑ کر دروازے کے سامنے ایک چٹائ سے بنا دی جس پر بچے بیٹھ کر کھانا کھا سکتے تھے اور کھیل سکتے تھے۔ ان پوسٹرز پر چند سیاستدانوں کے نام اور تصاویر موجود تھیں جن میں مسیحی سیاستدان بھی شامل تھے۔ 16 مئ کے صبح ایک مسلمان پڑوسن خاتون پوما موچن جس کا ان کے گھر آنا جانا تھا وہ ان کے گھر آئ تو پوسٹرز سے بنی اس چٹائ کو دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئ اور کہا کہ یہ ہمارے علما کرام کی تصاویر ہیں اور انے کام بھی مقدس ہیں تم نے ان کی توہین کی ہے۔ ان کے سمجھانے پر بھی یہ عورت باز نہ آئ اور پورے محلے میں شور مچا دیا۔ اسی شام کو علاقے کے مولوی ظہیرالدین نے تقریبا 150 کے لگ بھگ لوگوں کو اکٹھا کیا اور علاقے کے مسیحیوں کے خلاف نفرت آمیز تقریر شروع کر دیں ۔ مسلمانوں کا مطالبہ تھا کہ سونیا کو گرفتار کیا جائے۔ حالات کی کشیدگی کو کنٹرول کرنے کے لئے پولیس پہنچ گئ اور وقتی طور پر معاملہ رفع دفع کروا دیا۔
معروف سماجی شخصیت دی وائس سوسائٹی کی راہنما اور ماہر قانون محترمہ عنیقہ ماریا کو آج شام سونیا بی بی نے فون کیا اور بتایا کہ پولیس اس کے گھر پہنچ چکی ہے۔ سونیا بہت گھبرائ ہوئ تھی۔ اس نے خوف سے اپنی پہلی منزل سے چھلانگ لگا دی جس سے اس کی ٹخنے کی ہڈی ٹوٹ گی۔ پولیس پر علاقے کے مسلمانوں کا شدید دباؤ ہے ۔ اور اتنے بڑے مشتعل ہجوم کے جزبات کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پولیس سونیا کے خلاف توہین رسالت کی ایف آئ آر کاٹ سکتی ہے۔
پاکستانی مسیحی کمیونٹی اس طرح کے شرمناک واقعات کی شدید مُزمت کرتی ہے ۔