مریم مشتاق کو اغوا نہی کیا گیا بلکہ اُس نے اپنی مرضی سے مسلمان شخص محمد علی سے شادی کی ہے اور اسلام قبول کیا ہے، مقامی پولیس کی شرارت ۔ واٹسن سلیم گل،
news-1463494518-1467_large
باخبر زریع کے مطابق پولیس نے اس کیس کو خراب کر دیا ہے اور اغوا کاروں سے مل کر اس کیس کو دوسری جانب لے جایا جا رہا ہے۔ مریم مشتاق کی ماں اور خاندان والوں کا کہنا ہے کہ مریم مشتاق باقائدہ چرچ جاتی تھی اور اس پر چرچ جانے کا کوئ دباؤ بھی نہی تھا۔ وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ دوستوں کی طرح تھی۔ اگر کوئ ایسی بات ہوتی تو وہ ضرور اپنی کسی بہن یا سہیلی کو بتاتی۔ مریم مشتاق کی فیملی پر دباؤ ہے کہ وہ اب مریم کو بھول جاہیں۔ دوسری طرف اگلے ہفتے پولیس نے مریم مشتاق اور محمد علی کو مقامی فیملی کورٹ میں پیش کرنا ہے۔ اور خدشہ ہے کہ مریم پر دباؤ ڈال کر یہ بیان دلوایا جائے کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔