میرے بارے میں یہ کہنا کہ میں سیاسی پارٹیوں اور سیاسی تحریکوں میں شامل ہونا پسند نہی کرتا قطئ طور پر غلط ہے ، واٹسن سلیم گل،

میرے یورپ کے تین دوست جو میرے لئے معزز اور قابل احترام ہیں ان سے سکائیپ پر میٹینگ ہوئ اور میں نے اپنے خدشات کا زکر کیا ۔کوشش کی ہے کہ میری اس پوسٹ سے کسی کی بھی دل آزاری نہ ہو۔ مگر میں اپنا موقف پیش کرنا چاہتا ہوں۔
12961281_1087817717946253_2804961192813564402_o
میں یہ بات شائد نہ کرتا مگر کئ دنوں سے یورپ سے تعلق رکھنے والے بہت سے دوستوں کو میرے متعلق یہ کہا جا رہا ہے۔ کہ میں سیاسی پارٹیوں اور سیاسی تحریکوں میں شامل ہونا پسند نہی کرتا، جو کہ غلط ہے ۔ میں آج تک جن بھی تحاریک کا حصہ رہا ہوں وہ سو فیصد سیاسی امور سے تعلق رکھتی تھیں۔ یوروپیئن پارلیمنٹ ہو یا ڈچ پارلیمنٹ میں ہماری میٹینگز ، اور مظاہروں میں ہمارا واسطہ سیاستدانوں کے ساتھ رہا ۔ ہمارے مسائل سیاستدانوں کی توجہ اور ان کی نظر کرم کے متلاشی تھے۔ ہمارا طرز عمل بھی ان حوالوں سے سو فیصد سیاسی تھا۔ اس لئے میرے بارے میں اس طرح کی بات سراسر غلط ہے۔ ہاں میں آپ سب کو یہ بھی بتانا چاہوں گا کہ میرے بارے میں یہ کیوں کہا گیا۔ دراصل میں جمہوری فکرؤفلسفے اور سوچ کا حامل ہوں۔ اور جب بھی کبھی بھی کسی بھی تحریک کا حصہ بنتا ہوں تو میری کوشش ہوتی ہے کہ اس تحریک میں پورے یورپ اور برطانیہ کی نمایند گی ہو۔ اور فیصلے بجائے دو یا تین اشخاص کے سب کی رضا مندی سے ہوں۔ پھر اس تحریک میں شامل ہر ایک شخص کے مشورے اور رضا کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے ۔ اور اگر میٹینگ میں اکثریت کوئ فیصلہ کرے تو اس کا احترام کیا جائے۔ ہم نے آج تک جتنی بھی تحاریک منعقد کی تھیں سب میں یہ فیصلہ اکثریتی تھا۔کہ ہم ان تحاریک کو کسی ایک دو سیاسی جھنڈوں کے نیچے نہی کریں گے بلکہ یورپ اور برطانیہ کی تمام سیاسی ، سماجی اور مزیبی شخصیات کو شامل کریں گے۔ اس سے ہماری کمیونٹی میں اتحاد اور یگانگت نظر آئے گی۔ یہ میرے اکیلے کے فیصلے نہی تھے۔ اور اگر ابھی حالیہ تحریک میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس تحریک کو سیاسی پارٹیوں کے جھنڈے کے نیچے کیا جائے گا تو مجھے کیا اعتراض ہوتا۔ جو بھی ہوتا اکثریتی فیصلے سے تھا۔ کوئ ایک بھی یہ نہی کہہ سکتا کہ کسی بھی ایک میٹینگ میں میں نے اکیلے کوئ فیصلہ کیا ہو۔ میں سیاسی پارٹیوں کی طاقت ، تنظیم اور کردار کا حامی ہوں اور یہ یقین رکھتا ہوں کہ اگر بڑے ایشوز پر تمام سیاسی پارٹیاں یکجا ہوں تو ہمیں کنارہ مل سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں میں خود بھی کسی سیاسی پارٹی کا حصہ بن سکتا ہوں اگر مجھے اپنے نظریہ کی عکاسی اس پارٹی میں نظر آئے گی۔
ہماری سکائیپ کی میٹینگ میں اٹلی سے میرے محترم بھائ جو آنے والی تحریک کے روح رواں بھی ہیں نے مجھے اس تحریک میں شامل ہونی کی دعوت دی۔ اس میٹینگ میں سپین اور بلیجئیم کے دومعتبر دوست بھی تھے۔ میٹینگ میں کچھ تلخی بھی ہوئ۔ مگر میں ان باتوں کو دہرانا نہی چاہتا ہوں ۔ کیونکہ میں ان کی عزت کرتا ہوں۔ اور میرے لئے یہ تینوں دوست قابل احترام ہیں۔ ہاں میں اپنا موقف پیش کرونگا۔ کہ مجھے اس تحریک میں دور رکھا گیا۔ ہاں میں انسان ہوں اور مجھے دُکھ ہوا کہ کیا میں اس سلوک کے لائک تھا؟ ۔ پھر تمام فیصلے کرنے کے بعد مجھے شامل ہونے کے لئے کہا گیا۔ میری معزرت کو تکبر اور انا کا نام دیا گیا۔ اس لئے مجبور ہو کر اپنا موقف پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ میں ان تین بھائیوں کی کمیونٹی کے لئے خدمات کو ہمیشہ سراہتا ہوں۔ اور ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مگر یہاں بات اصول کی ہے۔ کہ پہلے تو مجھے مشورے کے قابل نہی سمجھا گیا اور اب مجھے اس تحریک میں شامل ہونے کے لئے کہا جارہا ہے جس کی لوکیشن پر مجھے اؑعتراض ہے۔ اگر ابھی بھی اس تحریک کو اس کی اصل جگہ پر منعقد کیا جائے تو میں آخری قطار میں بھی کھڑا ہونے کو تیار ہونگا۔ میرا موقف یہ ہے کہ پیرس پر حملہ سات ماہ قبل ہوا اس حوالے سے پیرس تحریک اگر وقت پر پیرس میں ہوتی تو شائد ٹھیک ہوتی مگر برسلز میں حملہ تازہ واقعہ ہے اور دو ماہ قبل ہوا ہے ۔ پھر یوروپیئن یونین کا صدر دفتر برسلز میں ہے۔ یورپ کی طاقت کا مظہر نیٹو کا صدر دفتر برسلز میں ہے۔ یورپ کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے صدر دفاتر برسلز میں ہیں۔ یوروپین کمیشن برسلز میں ہے۔ تو تحریک بجائے برسلز کے پیرس میں سمجھ سے باہر ہے۔
کچھ دوستوں نے مجھ سے رابطہ کر کے میرا موقف جانا اور کچھ سے میں نے خود رابطہ کر کے اپنا موقف پیش کیا۔ اور میں کھُل کر اس تحریک کی تفصیل اس لئے نہی لکھ رہا ہوں کہ خدا نہ خواستہ اس تحریک کو نقصان نہ پہنچے ۔ میرے لئے یہ بہت مشکل ہے اس لئے مجھے یہ تحریر لکھنے میں اتنا وقت لگا۔ اگر یہ تحریر نہی لکھتا ہوں تو میری پوزیشن دھندلاتی ہے۔ میرے لئے یہ تکلیف کی بات ہے کہ ایک طرف مجھے اس تحریک سے دور رکھا گیا تو دوسری طرف مجھے اس تحریک میں شامل ہونے کو کہا جا رہا ہے جس کے وقت اور جگہ پر میرا نظریاتی اختلاف ہے۔ گو میں کمیونٹی کا ایک ادنا سا خادم ہوں۔ میرے لئے اس تحریک میں شامل تمام لیڈرز قابل احترام ہیں ۔ میں اس تحریک کی کامیابی کے لئے دُعا گو ہوں۔ میری کوئ بات اگر کسی کو ناگوار گُزری ہو یا غلط لگی ہو تو تمام یورپ اور برطانیہ کے دوستوں کی عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہوں۔ آپ میٹینگ کر کے مجھے کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ میٹینگ میں کہنے کے لئے میرے پاس بہت کچھ ہو جو میں اپنی تحریر میں نہی کہہ پایا۔
خداوند ہمیں فہم اور دانش عطا فرمائے۔

Advertisements