تین پاکستانی مسیحی خاندان تھائ لینڈ سے دوسرے ملک پھر تیسرے ملک اور واپس تھائ لینڈ میں نہایت مخدوش حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ہم صرف زبانی جمح خرچ، واٹسن گل۔
download (1)
چند دنوں سے تھائ لینڈ سے ایک پاکستانی مسیحی بھائ مجھ سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ تھائ لینڈ میں سیاسی پناہ گزینوں کو مقامی پولیس نے جب گرفتار کرنا شروع کیا تو( ذیڈ) اور ان کے ساتھ دیگر دو خاندانوں تھائ لینڈ سے فرار ہو کر پڑوس ملک میں پناہ لی مگر حالات یہاں بھی سازگار نہی تھے۔ پھر وہ ایک تیسرے ملک پہنچے کہ شاید یہاں ان کی زندگی آسان ہو جائے۔ مگر پولیس نے ان کو گرفتار کر کہ واپس دوسرے ملک ڈی پورٹ کر دیا۔ قصہ مختصر وہ واپس تھائ لینڈ پہنچے مگر کسی جنگل میں پناہ لی جہاں پر نہ کھانے پینے کے لئے بھی کچھ نہی تھا۔ وہاں ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئ جو ان کے لئے فرشتہ ثابت ہوا اور ان کو وقتی پناہ دی۔ بھائ (ذیڈ) نے مجھ سے درخواست کی کہ ان کی آواز اگر کہیں پہنچائ جائے جہاں سے شائد کوئ مدد ہو سکے۔ بھائ (ذیڈ) نے اپنی مکمل کہانی کے ساتھ تصاویر بھی مجھے بیھجی ہیں اور مجھے اجازت دی تھی کہ میں ان کے بارے میں کہیں بھی لکھ سکتا ہوں۔ مگر میں نے سوچا کہ اگر میں خود کچھ عملی طور پر نہ کرو اور ان کی تفصیل اور تصاویر سوشل میڈیا پرپوسٹ کر کے ہیرو بننے کی کوشش کروں یا کوئ اور اس خبر کا صرف چسکا لے ۔ تو یہ ٹھیک نہی ہے۔ میں نے اس حوالے سے یوروپین پارلیمنٹ کے دو ارکان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر ایک تو چھٹی پر ہے اور دوسرا جواب نہی دے رہا ۔ میں اعتراف کرتا ہوں کہ ان خاندانوں کے لئے کچھ نہی کر سکا۔ ابھی بھی اگر کوئ تنظیم اور گروپ سمجھتا ہے کہ وہ ان کے لئے کچھ کر سکتا ہے تو مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے میں ساری تفصیل اور برائےراست رابطے کا انتظام کر دونگا۔ اور بھائ (ذیڈ) اگر پھر بھی چاہیں کہ میں ان کی شناخت ظاہر کر دوں تو میں اگلی پوسٹ میں (اگر میرے رب نے چاہا) کردونگا۔