تھائ لینڈ میں پاکستانی مسیح شاہد لطیف کی موت کے زمہ دارکیا نیشنل اور انٹرنیشنل ادارے ہیں؟ واٹسن سلیم گل،
images.13450137_10153524784786540_1268838913385932827_n
کیا اس کی موت کے زمہ دار ہمارے نام نہاد مسیحی لیڈرز نہی ہیں؟۔ کیا وہ جو پاکستان کے ایوانوں میں حکومت کی جوتیاں صاف کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ کیا وہ زمہ دار نہی؟۔ کیا پاکستان میں ہماری مسیحی نام نہاد این جی اوز اس کی زمہ دار نہی؟۔ کیا ہمارے اورسیز نام نہاد لیڈرز ان واقعات کے زمہ دار نہی ؟۔
یہ ایسے سوالات ہیں جن پر ہم جواب دینے کے بجائے ایک دوسرے کا منہہ دیکھتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ تھائ لینڈ میں ہمارے مسیحیوں کی کسمپرسی کی حالت اور ان کی خوفناک موت کے زمہ دار سب سے زیادہ ہمارے وہ نام نہاد لیڈرز ہیں جو اتحاد اور یکجہتی کی کسی بھی تحریک کو اپنے پاؤں کے نیچے روند کر صرف اپنے اور اپنی تنظیموں کے نام کے جھنڈے گاڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ ایک ایک لیڈر نے اپنے نام کے ساتھ مختلف تنظیموں کے مختلف عہدوں کی ایک لمبی فہرست لگائ ہوتی ہے۔ مگر وہ ہر تحریک میں تنہا شرکت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ سب سے آگے اور سب سے اونچی کرسی اسے دی جائے۔ ہمارے یہ لیڈر چاہئے کسی ایمبیسی میں اپنا بے فارم ہی ٹھیک کرانے جاہیں۔ واپس آکر علان کرتے ہیں کہ ہم نے تھائ لینڈ، ملیشیا اور سری لنکا کے مسیحیوں کی آواز اٹھائ ہے۔ یہ لیڈر صبح گھر سے دہی لینے کے لئے نکلتے ہیں رستے میں اگر کسی ادارے کا دفتر ہو تو اس کے سامنے اونچی اواز میں چلا کر آ جاتے ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر بیٹھ کر بھڑکیں مارتے ہیں کہ ہم نے فلاح ادارے میں آواز اٹھائ ہے۔ (ان نام نہاد لوگوں میں میں اپنے آپ کو بھی گنتا ہوں)
او کوئ شرم ہوتی ہے کوئ حیا ہوتی ہے۔ خدا کا خوف کرو، ہم سب نے مرنا ہے اور اوپر حساب دینا ہے۔ ابھی بھی وقت ہے اپنے پنجروں سے باہر آکر کمیونٹی کو متحد کرنے میں اپنا کردار ادا کرو۔ اپنی زات اور اپنی تنظیموں کو پیچھے رکھو۔ خدا کی قسم اگر آپ کی خدمت ایثار نظر آئے گا تو آپ جس تنظیم میں بھی ہونگے یہ کمیونٹی آپ کی پیروی کرے گی۔ ہمارے مسیحی بہن بھائیوں کو کوئ نیشنل اور انٹرنیشنل ادارہ ان حالات سے آزادی نہی دلا سکتا جب تک ہم متحد ہو کر ان کے پیچھے کھڑے نظر نہ آہیں۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت ہم دنیا کی سب سے زیادہ منتشر قوم ہیں۔ خدا ہمیں ایثار اور قربانی کے جزبے سے معمور کرے۔