تھائ لینڈ میں ایک بار پھر پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کی پکڑ دھکڑ شروع۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائ جارہی ہیں۔ واٹسن سلیم گل،
IMG-20160129-WA0029
بزرگوں ، بچوں ، حاملہ خواتین سمیت بیمار مسیحیوں کو بھی گرفتار کر کے جیلوں میں ٹھونھسا جا رہا ہے۔ ہماری مسیحی قوم اتنی بد قسمت ہے کہ نہ تو پاکستان میں کوئ لیڈر ان کی آواز بن رہا ہے بلکہ یورپ میں بھی سوائے زبانی جمح خرچ کے کچھ نہی ہو رہا ہے۔ یورپ کے مسیحیوں نے جب یکجا ہو کر اتحاد کے ساتھ ان کے لئے تحریک چلائ تھی تو تب دباؤ کی وجہ سے تھائ لینڈ کی حکومت نے اپنا رویہ بدلہ تھا۔ مگر یورپ کے دو مسیحیوں کی منافقت نے نہ صرف یورپ کے پاکستانی مسیحیوں کے اتحاد کو نقصان پہنچایا بلکہ ان تحاریک کو بھی کمزور کیا جن میں ہم اکٹھے تھے۔ ان ہی کی وجہ سے مضید چند فیصلے غلط ہوئے ہیں جن پر ہم کام کر رہے ہیں۔
تھائ لینڈ میں پاکستانی مسیحی پناہ گزینوں کے حالات بہت خراب ہورہے ہیں۔ میری معلومات کے مطابق صرف دو این جی اوز وہاں کام کرتی نظر آ رہی ہیں۔ جن میں سے ایک فرخ سیف فاؤنڈیشن اور دوسری ولسن چوہدری صاحب کی برٹش پاکستانی کرسچن ایسوسییشن وہاں کام کر رہیں ہیں۔ باقی سب (مجھ سمیت) زبانی جمح خرچ ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک مسیحی راشد لطیف کی موت ہو گئ۔ یہ بھائ اور ان کے ساتھ چند لوگ اس جہنم سے نکل کر بھاگے تھے مگر حالات ان کو واپس تھائ لینڈ میں لے آئے۔ میں اس حوالے سے ایک رپورٹ لکھ چکا ہوں۔ تھائ لینڈ سے ایک مسیحی بھائ زاہد یونس نے مجھے ایک تفصیلی رپورٹ بیجھی ہے جس میں انہوں نے تبایا کہ کن مشکلات میں پاکستانی مسیحی اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم یورپ میں اپنے آپ کو بڑا لیڈر سمجھتے ہیں مگر مظاہروں میں اتنے لوگ بھی اکھٹے نہی کر سکتے جتنے عہدے ہم اپنے نام کے ساتھ لگاتے ہیں۔ میں ابھی بھی مایوس نہی ہوں۔ اور جانتا ہوں کہ یورپ میں اتنی بڑی ہماری کمیونٹی ہے اور ان کی بہت بڑی تعداد کو سمجھ آ رہی ہے۔
کھول یوں مٹھی کہ اک جگنو نہ نکلے ہاتھ سے
آنکھ کو ایسے جھپک لمحہ کوئی اوجھل نہ ہو
پہلی سیڑھی پر قدم رکھ ،آخری سیڑھی پر آنکھ
منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو