دو مسیحیوں سمیت تین افراد کو توہین رسالت کے الزام میں سزائے موت، جعفر علی اور جاوید ناز کو سزائے موت کے ساتھ 35 سال کی سزا، واٹسن سلیم گل،
download (1)
توہین رسالت کے تینوں مجرموں کے خلاف گوجرانوالہ کے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں 15 مئی 2015 کو تعزیرات پاکستان کی دفعات 295 سی اور 386 کے تحت پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق انجم ناز نے پولیس کو شکایت کی تھی کہ جاوید ناز اور جعفر علی نے اسے بلیک میل کرتے ہوئے 20 ہزار روپے ہتھیا لیے ہیں اور مزید 50 ہزار روپے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
پولیس نے جب انجم ناز کی نشاندہی پر جاوید ناز اور جعفر علی کو حراست میں لیا تو معلوم ہوا کہ جاوید ناز کے موبائل فون میں انجم ناز کی توہین رسالت پر مبنی گفتگو کی آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جو اس نے جعفرعلی کو بھی دے دی تھی اور اب دونوں انجم ناز سے پیسوں کا مطالبہ کر کے اسے بلیک میل کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق ریکارڈنگ سننے پر معلوم ہوا کہ انجم ناز نے توہین رسالت پر مبنی جملے ادا کیے تھے جنھیں جاوید ناز نے ریکارڈ کر لیا تھا۔
اس پر تینوں کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کیا گیا اور ملزموں کے موبائل فون اور ان میں موجود میموری کارڈز قبضے میں لے کر ان کا فارینزک تجزیہ کروایا گیا۔
عدالت نے سماعت کے دوران پیش کیے جانے والے 11 گواہان کے بیانات اور پیش کیے جانے والے ثبوتوں کی روشنی میں انجم ناز، جاوید ناز اور جعفر علی کو توہین رسالت کا مرتکب قرار دیا۔
عدالت نے ان تینوں مجرموں کو سزائے موت دینے کا حکم دیا جبکہ جاوید ناز اور جعفر علی کو سزائے موت کے ساتھ ساتھ 35، 35 برس قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔