عبدل ستار ایدھی کی موت نسل انسانی کے لئے ایک بڑا نقصان ہے۔ پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی،
Edhi
ایدھی صاحب کی موت کی خبر نے جیسے پوری دنیا کو غمزدہ کر دیا اسی طرح نیدرلینڈ میں رہنے والے پاکستانی مسیحی بھی اس خبر سے افسردہ ہو گئے۔ سماجی رابطوں کے زریعے ایک دوسرے سے اپنے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے دی لیوینگ اسٹون اردو چرچ کے پاسٹر ندیم دین ، ایلڈر ساجد بھٹی ، ایلڈر فراز اعجاز، عابد شکیل، بوبی بوب نے ایدھی صاحب کی وفات کو پاکستان میں بسنے والے غریب عوام کے لئے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ اردو چرچ ہالینڈ کے انچارج پاسٹر ایرک سرور نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سب نے اس جہان فانی سے جانا ہے ہمیں دعا کرنا چاہئے کہ پاکستان میں خدا اور ایدھی پیدا کرے۔ معروف سماجی شخصیات جن میں گلباز فضل، جمشید ملک، ایلڈر انجم اقبال ، سسل جیمس نے کہا کہ یہ نقصان صرف پاکستان کا نہی بلکہ ساری دنیا کے غریب عوام کا نقصان ہے جو پورا ہونا مشکل ہے۔ گیسپر ڈانئل کہا کہ ایدھی جیسے لوگ روز روز پیدا نہی ہوتے اس کے ساتھ ہی پاسٹر ولئیم پیغانی، واٹسن سلیم گل، پرویز ولئیم ، کلیم سلیم، گریفن عمانیوئل نے ایدھی کو اس صدی کا سب سے بڑا مفکر قرار دیا کہ جو رنگ، نسل مزہب سے کہیں اوپر انسانیت کی خدمت کو ہی اس دنیامیں امن کی ضمانت سمجھتا تھا۔ ۔سیاسی راہنما زوالفقار میتھیو اعجاز نے کہا کہ ہمیں ایدھی صاحب کی وفات پر افسوس کے بجائے ان کی زندگی میں کی گئ خدمات کو یاد رکھنے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی ڈچ کرسچن کمیونٹی نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت عبدل ستار ایدھی کو نوبل پرائز کے لئے نامزد کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔