شہباز شریف صاحب آپکے صوبے میں مسیحیوں کی نیند حرام ہو چُکی ہے اور آپ ہاتھی، گھوڑے، گدھے پیچ کر سورہے ہیں، واٹسن سلیم گل،
download (1)
پنجاب میں مسیحی ایک بار پھر زیر عتاب ہیں۔ مسیحی بچیوں کی عزت لوٹنے والے آزاد پھر رہے ہیں اور مسیحی نوجوانوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر ان کی بہنوں، بیٹیوں کو اغوا کر کے تھانے میں بے عزت کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف صاحب کو خدا کا خوف نہی ہے۔ کیا آپ نے بارگاہ الہی میں پیش نہی ہونا۔ مجھے چند دن قبل ندیم مسیح کے خلاف کٹنے والی ایف آئ آر کی کاپی موصول ہوئ جو مجھے سابق رکن پنجاب اسمبلی جناب طاہر نوید چوہدری صاب نے بیجھی (جس کے لئے میں ان کا شکرگزار ہوں) اس ایف آئ آر میں واقعہ کی پوری تفصیل موجود ہے جو یک طرفہ ہے۔ اس ایف آئ آر میں مقدمہ دو سو پچانوے سی اور دو سو اٹھانوے اے کے تحت درج ہے ۔ اس میں یاسر بشیر ولد بشیر احمد نے ندیم مسیح پر الزام لگایا کہ 4 جولائ کو صبح تقریبا 12 بجے کے قریب ندیم مسیح نے یاسر کو واٹس اپ پر توہین آمیز میسج بھیجے جسے یاسر بشیر نے 10 جولائ کو دیکھا۔ اس میسج میں تین توہین آمیز تصاویر بھی تھیں۔ یاسر بشیر کے ساتھ اعجاز بابر، مقبول حسین، محمد شفیق وغیرہ بھی موجود تھے۔ اس واقعے کے دوسرا رخ بھی ہے جو مجھے پاکستان کی معروف سماجی کارکن اور ایڈوکیٹ محترمہ عنیقہ ماریہ نے بیجھا ہے۔ (میں ان کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں ) عنیقہ ماریہ صاحبہ کی رپورٹ کے مطابق آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے مسیحی اس واقعہ سے انتہائ خوفزدہ ہیں۔ اور بہت سے خاندان وہاں سے اپنی جانیں اور عزتیں بچا کر بھاگ گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یاسر بشیر اور ندیم مسیح گزشتہ 12 سال سے دوست تھے اور ایک خندان کی طرح تھے۔ مگر ندیم کے ایک مسلم خاتون سے دوستی بھی وجہ ہو سکتی ہے۔ نادیم کے بھائ کے شہبازکے مطابق ندیم یا ان کا کوئ بھی بھائ پڑھا لکھا نہی ہے۔ شہباز مسیح نے بتایا کہ اس کے بھائ ندیم نے اپنا فون یاسر کو اس لئے دیا تھا کہ وہ انٹرنیٹ کی سروس میں اس کی مدد کرے۔ شہباز مسیح نے یہ بھی بتایا کہ کہ اس کی بیوی سمرینا اور اس کا 18 مہنے کا بیٹا علیشا بھی پولیس کی قید میں ہیں اور پولیس اس کی فیلمی پر تشدد کر رہی ہے۔
ہم سابق رکن پنجاب اسمبلی جناب طاہر نوید چوہدری اور معروف سماجی راہنما ایڈوکیٹ عنقیہ ماریہ کی توہین رسالت کے مقدمے کی رپورٹنگ پرشکر گزار ہے، گلوبل کرسچن وائس۔