پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں منگل کی صبح قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے بعد ضلع بھر میں کاروبار احتجاجاً بند کرا دیے گئے۔
اس واقعہ کے بعد پورے ضلع میں کشیدگی پیدا ہو گئی اور ہندو برادری کے لوگ اپنے کاروبار بند کر کے اپنے گھروں میں محبوس ہو گئے۔
cropped-10690078_924627440915997_8285230611956478743_n.jpg
گھوٹکی ضلع میں ہندو برادری کی بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں ان کے مذہبی مقامات بھی ہیں۔
پولیس نے ہڑتال کرانے کے دوران توڑ پھوڑ اور تشدد کرنے کے الزام میں 18 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے ایک ہندو نوجوان امر لال کو حراست میں لینے کے بعد مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس کہتی ہے کہ لوگوں نے امر لال کو ضلع گھوٹکی کے علاقوں ڈہرکی اور رہڑکی کے درمیاں ایک مسجد کے باہر قرآن شریف کی مبینہ بے حرمتی کرتے ہوئے علی الصبح پکڑ لیا تھا اور لوگوں نے ہی اسے پولیس کے حوالے کیا تھا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس شخص کا ذہنی توازن خراب نہیں ہے البتہ یہ شخص کسی ذہنی خلفشار کا ضرور شکار ہے۔
امر لال ضلع سکھر کے علاقے روہڑی کا رہائشی ہے۔
واقع کی اطلاع ملنے پر مذہبی جماعتوں نے پورے ضلع میں کاروبار بند کرا دیا۔ قومی شاہراہ پر بھی مظاہرہ کیا گیا جس کے نتیجے میں شاہراہ کئی گھنٹے بند رہی۔ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے ضلع بھر میں لوگوں کے معاملاتِ زندگی متاثر ہوئے۔
ضلع میں آنے اور جانے والی پبلک اور نجی ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔
ہندو برادری نے بھی رضاکارانہ طور پر اپنے کاروبار بند کر دیے۔
لوگوں کے خوف کے پیش نظر ضلع گھوٹکی کے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعلی سندھ علی محمد خان مہر نے مقامی ایف ایم ریڈیو سے بار بار لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے واقعہ کے ذمہ دار شخص کو حراست میں لے لیا ہے اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔