آسیہ بی بی کو جیل میں قتل کر دیا جائے گا اور خبر آئے گی کہ آسیہ علالت کی وجہ سے جیل میں انتقال کر گئ، واٹسن سلیم گل،

آسیہ بی بی کے حوالے سے مجھے ایک خدشہ ہے یا یوں کہہ لیں کہ میرا تجزیہ ہے کہ پاکستان کے مزہبی حلقے آسیہ بی بی کو جیل سے باہر نہی آنے دیں گے۔ اور دوسری طرف حکومت آسیہ بی بی کو پھانسی پر لٹکنے نہی دی گی اس کی وجہ بین الاقوامی دباؤ ہے جس کا سامنا کرنا پاکستان کی حکومت کے لئے مشکل ہوگا۔ میرا یہ تجزیہ ہے اور افسوسناک ہے کہ آسیہ بی بی کو جیل میں ہی رکھا جائے گا اس کا مقدمہ طوالت کا شکار ہوگا اور پھر ایک سال ، پانچ سال یا پھر کبھی بھی ہم سُنے گے کہ آسیہ بی بی بیماری کی وجہ سے جیل میں انتقال کر گئ۔ خدا کرے میرا یہ تجزیہ غلط ہو مگر اس وقت حالات ہمیں یہ بتا رہے ہیں۔ اور کیا توہین رسالت کے مسیحیوں کے خلاف مقدمات اور نام (اقبال) میں کوئ بات مشترک ہے؟۔ رحمت مسیح اور سلامت مسیح کی رہائ کا حکم دینے والا جج عارف اقبال بھٹی تھا جسے بعد میں قتل کر دیا گیا۔ آسیہ بی بی کو سزائے موت سُنانے والا جج اقبال نوید تھا اور اب آسیہ کے مقدمے سے فرار ہونے والا اقبال حمید ہے ،عجیب بات ہے۔
img-20161013-wa0001..798255-AasiaBibidaughtersREUTERS-1417103148-746-640x480
حال ہی میں 150 عُلما اور مفتیان نے ایک شرعی علامیہ جاری کیا ہے جو سُنی تحریک بورڈ کی جانب سے تمام سوشل میڈیا پر موجود ہے اور میرے ہاتھ میں بھی ہے۔ اس میں تو آسیہ بی بی کی زندگی کا فیصلہ سنایا جا چُکا ہے۔ سُنی تحریک بورڈ کے ان عُلما اور مفتیان کرام نے فتویٰ دیا کہ کہ آسیہ بی بی سزائے موت کی حقدار ہے اور اس کو کسی بھی قسم کا رلیف دینا شریعت کے منافی ہے اور اگر اسے کہیں باہر بھجا گیا تو اس کے نتائیج خطرناک ہونگے۔ اس شرعی علامیے میں مفتیان کے ناموں کی فہرست بہت طویل ہے مگر اس میں 20 سے زائد اثر رسوخ والے نام موجود ہیں ۔