بریکینگ نیوز!!!!، تھائ لینڈ کی جیل میں ایک اور پاکستانی مسیحی اعجاز طارق زندگی کی بازی ہار گیا، واٹسن سلیم گل

top_3_best_sad_piano_songs_ever

رپورٹ بینکاک، ہمارے زرایع نے ہمیں خبر دی ہے کہ تھائ لینڈ میں بینکاک کی امیگریشن جیل میں کئ ماہ سے قید ایک پاکستانی مسیحی جس کی عمر 35 سے 40 کے درمیان ہے۔ اور اس کا نام اعجاز طارق ہے وہ اب اس دنیا میں نہی رہا۔ ہمارے زرایع کے مطابق ابھی چند دن قبل ہی اعجاز طارق کی پناہ کی درخواست یو این ایچ سی آر کی جانب سے مسترد کر دی گئ۔ جس سے اعجاز دل برداشتہ ہوگیا۔ اسے یہ خوف تھا کہ اسے اور اس کی فیملی کو اب پاکستان ڈیپورٹ کیا جائے گا۔ وہ یہ کہتا تھا کہ پاکستان میں اس کی جان خطرے میں ہے۔ اسے مار دیا جائے گا۔ اسی جیل کے سیل نمبر 3 میں اس کی بیوی کا بھائ عمران بھی قید ہے ۔

ہمارے زرایع بتاتے ہیں کہ اس جیل میں قیدیوں کی حالت نہایت مخدوش ہے۔ پاکستانی مسیحی خواتین، بچے ،بزرگ سمیت سب ہی زہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہیں کسی قسم کے علاج معالجے کی سہولت میسر نہی ہے۔ ایک خاندان تقریبا دو سال سے جیل میں ہے۔ اس خاندان کے سب سے چھوٹے بیٹے جارڈن کی عمر صرف 5 سال ہے اور یہ اپنے پانچ بہن بھائیوں سمیت جیل میں قید ہے۔ کیا قصور ہے ان کا کہ یہ پاکستانی مسیحی ہیں یا یہ قصور ہے کہ یہ ان کا تعلق اس کمیونٹی سے ہے جن کے لیڈرز باہر بیٹھ کر ان کے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

میں پہلے بھی یہ کہہ چکا ہوں کہ ہمارے مسیحی پناہ گزینوں کے مسائیل بہت بڑے ہیں۔ اور میری معالومات کے مطابق کوئ بھی پاکستانی مسیحی سیاسی یا سماجی تنظیم اتنے بڑے قد کاٹھ کی نہی ہے کہ تنہا ان مسائیل پر قابو پا سکے۔ یہ مسائیل صرف ہمارے اتحاد اور مشترکہ جدوجہد سے ہی ممکن ہے۔ میں آئے دن سنتا ہوں کہ ہمارے لیڈرز تھائ لینڈ جا رہے ہیں ۔مجھے سمجھ نہی آتا کہ وہ جا کر کرتے کیا ہیں۔ تھائ لینڈ کی ان جیلوں میں بہت سے مسیحی پناہ گزین زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ یہ سراسر بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کیا ہم اپنے بہن بھائیوں کو اسی طرح مرتا چھوڑ دیں۔ ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

Advertisements