عمر کوٹ سندھ سے تعلق رکھنے والے چار مسیحی خاکروب عرفان مسیح، اکرم مسیح، فیصل مسیح اورنظیر مسیح ایک بند گٹرلائین جو کہ کچھ دنوں سے بند پڑی تھی اسے صاف کرنے کے لئے پہنچے پہلے وہ بند گٹر کو بانس سے کھولنے کی کوشش کرتے رہے مگر جب یہ گٹر نہی کھُلا تو عرفان مسیح رسی کمر سے باندھ کر گٹر میں اتر گیا۔ اس بند گٹر میں زہریلی گیس تھی جس سے عرفان مسیح بےہوش ہو گیا اسے بچانے کے لئے ایک اور پھر دوسرا اور پھر تیسرا سب ایک دوسرے کو بچانے کے لئے گٹر میں اتر گئے ان کو بعد میں تشویشناک حالت میں گٹر سے نکالا گیا۔ حیرت انگیز طور پر ان میں سے کسی کے بھی پاس نہ تو سیفٹی کِٹ تھی نا کوئ گیس ماسک تھا۔ عرفان مسیح کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ زندہ تھا اور اگر اسے وقت پر طبئ امداد مل جاتی تو یہ بچ سکتا تھا مگر ڈاکٹر صاحب نے عرفان مسیح کو چھونے سے انکار کر دیا کیوںکہ وہ گٹر والے پانی سے تر تھا اور ڈاکٹر صاحب کا روزہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ ضد تھی کہ پہلے مریض کو نہلا کر لاؤ پھر میں علاج کرونگا کیونکہ میں روزے سے ہوں۔ اور پھر ڈاکٹر صاحب نے اپنا روزہ بچا لیا اور عرفان مسیح ہلاک ہو گیا اگر اسے وقت پر صرف آکسجن مل جاتی تو وہ بچ سکتا تھا۔ اکرم مسیح، فیصل مسیح اور نظیر مسیح کو حیدرآباد کے ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ اس صورتحال میں علاقے کے مسیحی غم و غصے میں جمح ہو کر احتجاج کر رہے ہیں اورحکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس ڈاکٹر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔

Advertisements