پاکستانی مسیحی سیاستدانوں کی ڈچ پارلیمنٹ میں شرمناک کارکردگی کے حوالے سے میں نے جو لکھا اس پر قائم ہوں، واٹسن سلیم گل،

ویسے تو آپ اس میٹینگ کے حوالے سے معروف مسیحی صحافی طارق چمن صاحب کی تفصیلی دیکھ چکے ہیں اس لئے میں وہ رپیٹ نہی کرونگا۔

مجھے پاکستانی مسیحی وفد کی برسلز اور دی ہیگ میں میٹینگ کے حوالے سے معلومات ملی ہیں وہ ملی جُلی ہیں۔ مگر میں یہاں سیاست دانوں اور ایک سماجی تنظیم کی یوروپیئن پارلیمنٹ میں شرکت کو علیحدہ کر کے دیکھ رہا ہوں۔ برسلز میں ہونے والی میٹینگ کے چار شرکاء جنکا تعلق یورپ سے ہے۔ ان سے میری بات ہوئ جنہوں نے اس میٹینگ کو مختلف تناظر میں دیکھا اور مجھے بتایا۔ اور میں پوری ایمانداری اور دیانتداری سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ میٹینگ دراصل ایک این جی او کی میٹینگ تھی جسے اس این جی او نے بڑی چالاکی سے یوروپیئن پارلیمنٹ میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ان کی این جی او پاکستان کی تمام اقلیتوں کی نمائندہ تنظیم ہے اور پاکستان کے اقلیتیں نمایندے بھی کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے پیچھے پیچھے رہے۔ میں سمجھتا کہ یہ این جی او اپنے اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی رہی۔ اس این جی او کے روح رواں مسٹر فرانسس کی خدمات سے میں انکار نہی کر سکتا۔ ان کی خدمات کے حوالے سے میں ان کا احترام کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔ وہ ہمارے لئے کسی اثاثہ سے کم نہی ہیں مگر جو بات سچ ہے اسے کہے بغیر بھی چارہ نہی ہے۔ ہم پاکستان کے بڑے سیاستدانوں پر خاندانی سیاست کے حوالے سے زبردست تنقید کرتے ہیں۔ بھٹو کے بعد بے نظیر اور پھر بلاول اسی طرح نواز شریف، شہباز شریف پھر حمزہ اور مریم تو کیا اب اس این جی او کی انچارج پاپا کے بجائے ان کی بیٹی اور پھر بیٹی کے بچے ہونگے۔ دوسری بات کیا یہ این جی او پاکستان کی تمام اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ تیسری بات کہ کیا اس این جی او کے فنڈز کے حساب کتاب کا طریقہ کار شفاف ہے؟۔ اب اگر مجھے کوئ یہ کہے کہ میں کون ہوتا ہوں یہ پوچھنے والا تو اگر تو یہ این جی او تسلیم کر لیتی ہے کہ یہ صرف خاندانی تنظیم ہے تب تو مجھے کوئ حق نہی ہے مگر یہ تنظیم اگر اپنے آپ کو پاکستان کے تمام اقلیتوں کی نمایندہ کے طور پر پیش کرے گی تو قوم کو حساب تو دینا پڑے گا۔ میرا ان سیاستدانوں سے بھی یہ سوال ہے کہ کیا یہ یہاں گھومنے پھرنے آئے تھے؟۔ کیوں کہ دی ہیگ میں ہونے والی میٹینگ میں شریک ہی نہی ہوئے ۔ میڈیا میں یہ خبر چل رہی تھی کہ پاکستان کی اقلیتوں کا ایک وفد یوروپیئن پارلیمنٹ میں اقلیتوں کی آواز اٹھا رہا ہے۔ مگر یہ اقلیتوں کے نمایندے ایک این جی او کے جھنڈے کے نیچے تھے۔ اب یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے سروں پر اس طرح کے نمایندے مسلط کر دئے جاتے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ یوحنا آباد کے ان بے قصور لوگوں کے لئے کیا کر رہے ہیں جو جیلوں میں دم توڑ رہے ہیں۔ کیا اس حوالے سے قومی سطح پر کوئ احتجاج نہی بنتا۔ یہ نمایندے تھائ لینڈ کے مسیحیوں کے لئے کیا کر رہے ہیں کیا یہ تھائ لینڈ کی حکومت پر پریشر نہی بڑھا سکتے یا یو این ایچ سی آر پر ہاتھ نہی ڈال سکتے۔ کیا شہارون مسیح جیسے بے گناہوں کے قتال پر حکومت پاکستان کے خلاف ملک گیر احتجاج کر سکتے ہیں۔ نہی کر سکتے تو کم از کم کوئ جامعہ منصوبہ بندی جو اس طرح کے واقعات کو روک سکے اس پر تو کام کر سکتے ہیں۔ اگر یوروپیئن پارلیمنٹ میں پیش ہوکر پاکستانی اقلیتوں کی آواز اٹھانا ہی سب کچھ ہے تو تب تو ہم آپ سے بھی اچھے ہیں آپ یہ آواز فنڈز لیکر اٹھاتے ہوں اور ہم یورپ میں رہنے والے مسیحی یہ کام بغیر کسی بھی قسم کا فنڈ لئے  کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں۔ میرا کسی سے کوئ جھگڑہ نہی ہے اورچونکہ اس میٹینگ میں شرکت کرنے والے بہت سے میرے دوست بھی ہیں جن میں کچھ پارلیمنٹ کے ممبرز بھی ہیں میں ان سب کا احترام کرتا ہوں اس لئے اپنی اس تحریر پر میں نے اپنا ہاتھ ہولا رکھا ہے اور اسے کسی بڑے اخبار میں بھی نہی بیجھوں گا اور امید کرونگا کہ میری اس تنقید کو مثبت انداز میں لیا جائے گا۔ پاکستان کے مسیحی سیاستدانوں سے بھی میری یہ درخواست ہے کہ آپ حکومت وقت کے خلاف طاقتور تحریک چلا کر ان کو مسیحیوں کے جائز حقوق دلوانے میں مضبوط کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جیسے مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے کے باوجود یورپ میں متحد ہو کر آئے ہیں اسی طرح پاکستان کے اعوانوں میں مسیحیوں کے حقوق پر اپنی سیاسی جماعتوں کے مقاصد کو پیچھے کر کے متحد ہو کر اپنی قوم کی آواز بنیں تو قوم آپ کے پیچھے کھڑی ہو جائے گی۔ ہم پاکستان میں سب سے بڑی مگر سب سے زیادہ منتشر اقلیت ہیں۔ اور آگے جانے کے بجائیے پیچھے کی جانب جا رہے ہیں۔ سوچئیے کہ ہم اپنی قوم کے ساتھ کیا کر رہئے ہیں۔

Advertisements