نیدرلینڈ میں رہنے والے پاکستانی مسیحیوں نے 14 اگست کو پاکستان ہاؤس کے باہر کامیاب مظاہرہ کیا، واٹسن سلیم گل

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ یوحنا آباد کے مسیحی جو ساڑھے تین سال سے جیلوں میں مظالم کا شکار ہیں ان پر رحم کیا جائے ان پر سے بھی مقدمات اسی طرح خارج کئے جائیں جیسے کہ تحریک لبیک کے مظاہرین پر سے خارج کئے گئے ہیں۔ یوحنا آباد سے تعلق رکھنے والے دو مسیحی قیدی جیل میں مناسب علاج معالجہ کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں چھ اور بیمار ہیں ان کو ادویات اور سہولیات فراہم کی جایئں۔

IMG-20180814-WA0070Screenshot_2018-08-14-18-18-22 (1).png

مظاہرے کے انتظامات کی کمیٹی جس میں گلباز فضل، اعجاز میتھو زوالفقار ، پاسٹر ندیم دین، بوبی یوسف، پاسٹر عمران گل، پاسٹر سرفراز رحمت، سسل جیمس، جگنو کینڈی اور واٹسن سلیم گل شامل تھے۔ اپنی تقاریر میں نورین برکت، بانو کینڈی، اعجاز میتھیو زوالفقار، پاسٹر عمران، گلباز فضل اور راقم واٹسن گل نے حکومت پاکستان سے درخواست کی کہ جیسے ہم آج آزادی کا دن منا رہے ہیں اسی طرح یوحنا آباد کے مسیحیوں کو بھی یہ حق دیا جائے۔

Screenshot_2018-08-15-10-55-10.png

مظاہرین نے پاکستانی جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔مظاہرے کے دوران سفیر پاکستان محترم جناب شجاعت علی راٹھور نے مظاہرین کو دعوت دی کہ آپ اپنا احتجاج ریکارڑ کروا چکے ہیں۔ اب آپ میری رہائیش گاہ میں تشریف لایں اور اپنا موقف یہاں رکھیں جسے مظاہرین نے آپس میں مشورے  کے بعد متفقہ طور پر قبول کیا اور پھر مظاہرین نے پاکستان ہاؤس میں سفیر پاکستان سے اپنے مطالبات دھرائے جن پر انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ حکومت پاکستان کو ہمارا پیغام پہنچائیں گے۔

Screenshot_2018-08-15-10-59-42.pngScreenshot_2018-08-15-10-53-35 (1).png

بہت مشکل اور رکاوٹیں ہمارے راستے میں آئیں مگر خدا ہمارا حامی اور ناصر تھا۔ یہووا پاک کے شکرگزار ہیں جس نے ہماری عزت رکھ لی۔

IMG-20180814-WA0072IMG-20180814-WA0073Screenshot_2018-08-15-10-58-41.pngScreenshot_2018-08-15-10-56-38Screenshot_2018-08-15-10-52-37.png

Advertisements