ہالینڈ میں ہونے والے دو خاندانوں کے جھگڑے کی اصلی کہانی اور اس پرشرمناک، لغو اور جھوٹا پروپیگینڈہ، واٹسن سلیم گل۔

12 اگست کو ہالینڈ کے شہر روٹرڈیم میں ایک شرمناک واقعہ ہوا جو نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔ دو خاندانوں کے درمیان لڑائ ہوئ ۔ اس لڑائ میں دو کردار پیش کر رہا ہوں ایک پاسٹر صاحب اور ایک ٹام صاحب (فرضی نام) میں کوشش کرونگا کہ اس لڑائ میں خواتین کے حوالے سے کوئ بات نہ کی جائے کیونکہ میرے لئے دونوں ہی جانب کی خواتین قابل احترام ہیں۔ اور اس لڑائ کے وہ حصے زیر بحث نہ لائے جائے جن سے کسی بھی خاندان کی چادر کا تقدس متاثر ہو۔

یہ لڑائ ایک چار سالہ بچی جو کہ پاسٹر صاحب کی بھانجی تھی اور ٹام صاحب کے 10 سالہ بیٹے سے شروع ہوئ تھی جوبڑھتی چلی گئ۔ مختصر یہ ہے اس میں چند لوگ جلتی پر تیل ڈالتے رہے اور یہ آگ بن گئ۔ یہ دونوں ہی کمیونٹی میں متحرک تھے اور ہمارے مظاہروں اور قوم کی آواز بن کر ہمارے ساتھ کھڑے رہتے تھے۔ ابھی چند ماہ قبل ہم نے تھائ لینڈ کے مسیحیوں کے حقوق کے لئے برسلز میں مظاہرہ کیا تھا تو دونوں ایک ساتھ پہنچے تھے اور ایک ہی چرچ سے تعلق رکھتے تھے۔ جب ہم نے جینوا میں مظاہرے کا اعلان کیا تب دونوں ہمارے ساتھ تھے مگر جب ٹام پہنچے نہی تو میں نے پاسٹر صاحب سے پوچھا تو وہ لڑائ پر پردہ ڈال گئے کہ ٹام بھائ بیمار ہیں اس لئے نہی پہنچ سکے۔ ابھی حال ہی میں ٹام بھائ 14 اگست کے مظاہرے کی ٹیم کا بھی حصہ تھے مگر انہوں نے مجھے اپنی ایک اہم اپاؤنٹمنٹ کا لیٹر سکرین شاٹ بنا کر بھیجا جو کہ واقئ 14 اگست کو اسی وقت تھی جب ہمارا مظاہرہ تھا۔ 13 اگست کو صبح مجھے فون آنے شروع ہوگئے کہ ٹام صاحب کو پاسٹر صاحب کے بھانجوں نے گزشتہ رات یعنی اتوار 12 اگست کو مارا ہے اور یہ جھگڑہ ہمارے ایک اور اردو چرچ کے باہر ہوا ہے جہاں یہ دونوں خاندان بطور مہمان شریک تھے۔ اس چرچ کے پاسٹر جو کہ ہالینڈ کے سینئیر پاسٹر ہیں ان کے بیٹے نے ٹام صاحب کو ہسپتال پہنچایا جہاں سے ان کو طبئ امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا۔ کمیونٹی کے ایک معتبر رکن گلباز فضل نے اور میں نے فیصلہ کیا کہ ہمیں ٹام صاحب کی عیادت کے لئے جانا چاہئے اور اگر بچوں نے ایک بالغ شخص پر ہاتھ اٹھایا ہے تو اس پرصرف مزمت نہی بلکہ ایکشن کرنا چاہئے۔ ابھی میں نکل ہی رہا تھا کہ پاسٹر صاحب کا فون آ گیا جن کے بھانجوں نے مارا تھا۔ میں نے اپنے غصے کا اظہار کیا تو پاسٹر صاحب خود بھی کہا کہ ان کے بچوں نے غلط کام کیا ہے ان کے خلاف پولیس کیس بھی بنا ہے ہمیں افسوس ہے مگر اس تصویر کا دوسرا رخ ضرور دیکھیں۔ اور انہوں نے مجھے ریکارڈ کی ہوئ آواز سنائ جس میں پاسٹر صاحب کے گھر کی ایک خاتون کو نہایت غلیظ اور فحش گالیاں دی گئ تھیں۔ وہ گالیاں سن کر ان کے بیٹوں نے ٹام صاحب پر ہاتھ اٹھایا۔ جو کہ شرمناک عمل تھا۔

میں بھائ گلباز فضل، بھائ عظیم مسیح، بھائ جگنو کینڈی اور بھائ سیسل جیمس وہاں پہنچے۔ تو وہاں پاسٹر سرفراز رحمت، پاسٹر عمران گل، کے علاوہ کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد سینئیر پاسٹر ایرک سرور اپنی اہلیہ کے ساتھ مورس عنایت ان کی اہلیہ، اور دیگر کمیونٹی کے معتبر اراکین بھی پہنچ گئے جن میں انکل جان بھٹی، بھائ ببلی بھی شامل تھے۔( یاد رہے کہ چند کمیونٹی راہنما جن میں اعجاز میتھیو زوالفقار ، جمشید ملک شامل تھے اس حوالے سے فون پر ہمارے ساتھ تھے)۔ ان میں خواتین بھی شامل تھیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ رات کو ایک مسیحی بہن  نے ٹام صاحب کو مار سے بچایا تھا اور پاسٹر کے بھانجوں کو ڈانٹ کہا کہ خبردار اگر کسی نے اب ہاتھ لگایا تو۔ ہم نے اپنی بہادر خاتون بہن کے لئے تالیاں بھی بجائ تھیں۔ پاسٹر ایرک سرور کے صاحبزادے نے ٹام کو ہسپتال پہنچایا تھا۔ ہم سب کوئ تین سے چار گھنٹے وہاں بیٹھے رہے۔ سب بھائ ٹامس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جمح تھے۔ اور ہمدردی کے لئے موجود تھے۔ اس لئے یہ کہنا قطئ طور پر جھوٹ اور بکواس کے سوا کچھ نہی ہے کہ ٹام اکیلے تھے۔ بھائ ٹام نے پوچھا کہ میں نے پولیس کیس کروا دیا ہے مگر میرے ساتھ کوئ نہی ہے تو سب سے اونچی آواز میں میں نے کہا کہ جناب میں آپ کے ساتھ ہوں۔ پاسٹر عمران نے تجویز دی کہ اس حوالے سے کو ئ کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی جائے اس پر بھی سب سے پہلے میری آواز تھی کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اس دوران بھی پاسٹر صاحب کی خواتین کو دینے والی گالیوں کو سلسلہ جارہی رہا جو کہ نہایت غلط اور غیر مسیحی رویہ تھا  حالانکہ ہمارے درمیان نہایت احترام والی خواتین اور معتبر پاسٹرز موجود تھے۔

ہم سب نے باوجود اس رویہ کے پاسٹر صاحب کے بھانجوں کے اس عمل کی مزمت کی۔ ہالینڈ کی 70 فیصد کمیونٹی ٹام کے ساتھ کھڑی تھی۔ ہم کوشش کرتے رہے کہ اس مسلئے کا حل تلاش کیا جائے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ پولیس سے کیس واپس لے لیا گیا ہے۔ کمیٹی کی تشکیل پر کام شروع ہوا۔ بھائ گلباز نے ٹام صاحب سے وقت مانگاتو پہلے کہا کہ میرے کسی عزیز کی موت ہو گئ ہے۔ چند دن بعد میں عظیم بھائ نے وقت مانگا تو ٹال دیا گیا مگر اس دوران پاسٹر کے اور میرےخلاف سوشل پر ایک کرادر کشی کی مہم کا آغاز کیا گیا۔ میں صلاح کرانے والوں میں شامل تھا اور میرا اس لڑائ میں دور تک کوئ لینا دینا نہی تھا۔  ٹام صاحب وقت دینے کو تیار نہ تھے۔ اور ایک خاندان کو ساتھ شامل کر کے اس مسلئے کا حل تلاش کرنے کے بجائے جنگ پر آمادہ تھے۔ ان کے اس رویے پر جن کی ہمدردیاں ان کے ساتھ تھی وہ بھی اب سمجھنے لگے تھے موصوف صلاح نہی چاہتے ہیں۔ پاسٹر کہتے تھے کہ بچوں نے مارا ہے ہم خود بھی بچوں کو سزا دینے کو تیار ہیں۔ بچے معافی مانگنے کو بھی تیار ہیں مگر ٹام صاحب بتا نہی رہے تھے۔ کہ وہ صلاح کرنا بھی نہی چاہتے تو کیا چاہ رہے تھے۔ (بعد میں سمجھ آیا کہ وہ سوشل میڈیا پر بدلہ لے رہے تھے)

صلاح کی آخری کوشش ریورنڈ پاسٹر ایرک سرور ، گلباز فضل اور عظیم مسیح نے کی 8 سپتمبر کا وقت مخوص کیا۔ پاسٹر ایرک سرور نے ایک ہال کا اور کھانے کا اہتمام بھی کیا۔ پھر ٹام صاحب نے پیغام بھیجا کہ میٹینگ میں میری مرضی کے لوگ ہونے چاہئے۔ ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے مگرانہوں نے کہا کہ بھائ انجم اقبال اور بھائ مورس عنایت نہی ہونے چاہئے۔ تو یہ بات سمجھ میں نہی آئ یہ دونوں کمیونٹی کے معتبر ممبر ہیں۔ اس لڑائ میں ان کا کوئ کردار بھی نہی تھا تب بھی اس طرح کی شرائط کو جواز بنا کر اس میٹینگ میں شرکت سے انکار کر دیا گیا ۔

سوشل میڈیا پر میری کردار کشی؟؟؟؟،

اس لڑائ کو جو محض دو خاندانوں کے درمیان تھی اس کے لئے ایک بندے کو یہ زمہ داری دی گئ کہ آپ نے سوشل میڈیا پر اس طرح کا پروپیگینڈہ کرنا ہے کہ ہالینڈ کے جو مسیحی ہے وہ منہہ چھپاتے پھریں۔ کیونکہ ان کا یہ قصور ہے کہ وہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ اسالئم سیکرز کی مدد کرتے ہیں۔ اور جینیوا اور برسلز سمیت ڈچ پارلیمنٹ میں اسالئیم سیکرز کی آواز بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس قدر شرمناک، جھوٹ، لغو اور شیطانی کام کیا گیا کہ میں حیران تھا ۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ٹام ایک اسالئم سیکر ہے۔ اور ہالینڈ کا ٹولہ اسالئم سیکرز کے خلاف ہے۔  ٹام اب اسالئم سیکر نہی ہے بلکہ ہماری طرح ہی ہے اس کا کیس ویسے ہی پاس ہوچکا ہے جیسے کہ ہمارا اور وہ اگر اسالئم سیکر ہوتے تو ہالینڈ سے باہر نہی جاسکتے تھے۔ ٹام کئ بار یورپ سے باہر بھی گئے ہیں دبئ بھی گئے ہیں۔ گاڑی کا ڈچ لائیسنس بھی رکھتے ہیں۔ اور اگر اسالئم سیکرز کی مدد کی بات کی جائے تو ہالینڈ میں اسالم سیکرز کی جتنی مدد ہم کرتے ہیں شائد کسی اور ملک میں نہی ہوتی۔ اس میں گلباز فضل، پاسٹر ندیم دین، پاسٹر ایرک سرور، پاسٹر عمران اور بہت سے دوست شامل ہیں جن میں میرا بھی چھوٹا موٹا کردار ہے۔ جس وقت یہ سطور لکھ رہا ہوں میرے گھر میں ایک اسالئم والی فیملی موجود ہے۔ اور پاسٹر صاحب کے چرچ میں چار فیملی موجود ہیں جن کے کیسس ابھی پاس ہوئے ہیں ۔  دوسرا جھوٹ یہ بولا گیا کہ انہوں نے خوف سے پولیس رپورٹ واپس لی ہے ایسا نہی ہے کیونکہ پاسٹر کے خاندان کو جو دھمکیاں  دیتے تھے تو وہ ریکارڈ کر لی گئیں تھی۔ ڈر یہ تھا کہ سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ تیسرا دعویٰ کہ ٹام صاحب کو تنہاہ کر دیا گیا یہ بھی غلط ہے بلکہ ساری کمیونٹی ان کے ساتھ تھی۔ ہاں اب ان کے عجیب و غریب رویہ نے بہت سے لوگوں کو ان سے دور کیا ہے۔ پانچواں دعویٰ کہ ان کو ڈنڈوں سے مارا گیا اور یوپ سے نکالنے کا عزم۔ اس دعویٰ میں بھی جھوٹ اور فریب دے کر ہماری کمیونٹی کو بدنام کرنے کی بھدی اور ناکام کوشش کی گئ۔ پہلی بات کہ اگر ڈنڈوں سے مار مار کر ہڈیاں توڑی جاتی تو موصوف کو ہسپتال والے چند گھنٹوں میں ہی گھر نہ بھیجتے۔ دوسرا یہ کہ جن کی ماں کو فحش، گندی اور غلیظ گالیاں دی ہوں تو ان کا غصہ صرف ٹام پر تھا کیونکہ جس خاتون نے ٹام صاحب کو بچایا وہ میری بہین دبلی پتلی سی نازک سی ہے اور اگر یہ بچے کوئ غنڈے ہوتے تو میری بہن کے ڈانٹنے سے وہاں سے بھاگتے نہی۔ یہ ان کا غصہ تھا۔ پھر بھی میں یہ کہوں گا کہ ان کو یہ حرکت نہی کرنی چاہئے تھی۔ یہ بڑوں کا مسلئہ تھا اسے اپنے ہاتھوں میں لینے کی ضرور نہی تھی۔

مجھے یا ہالینڈ کے غیور مسیحیوں کو یعنی لیڈرز کوکیوں اس پروپیگینڈے میں گھسیٹا گیا۔ اس کی وجہ تو وہ بھائ جن کا تعلق فرانس سے ہے وہی بتا سکتے ہیں کہ ہم پر اس قدر غصہ ،کہ کئ بار پوسٹ پر اور جب بات نہ بنی تو ہمارےخلاف ویڈیو پوسٹ کر دی۔ منہہ سے غصے سے جھاگ نکل رہی تھی۔ اتنا غصہ کیوں تھا یہ تو شاید وہ خود ہی بتا سکتے ہیں مگر حیرت کی بات یہ بھی تھی کہ وہ ہماری کردار کشی کر کے ہم پر یہ الزام لگا رہے تھے کہ ہم ان کی کردار کشی کررہا ہوں۔ مجھے جھوٹا سیاستدان، چلا ہوا کارتوس اور اونگے بونگے اخبار کا صحافی کہہ کر مخاتب کرتا رہا۔ چلیں اگر میں مان بھی لوں کہ میں مزکورہ بالا الزامات پر پورا اترتا ہوں تب بھی ان صاحب کی مجھ سے دشمنی کی کوئ وجہ نہی بنتی تھی۔ خداوند پاک خدا نے اگر ان کو یہ موقع دیا تھا کہ ان سے اگر جناب ٹام صاحب نے اس جھگڑے کے بارے میں بات کی تھی تو ان کے پاس ایک اچھا راستہ یہ تھا کہ یہ خداوند رب سے دعا کر کے اس مسلئے کے لئے حکمت مانگتے اور پھر اپنا کردار ادا کر کے دونوں خاندانوں میں صلاح کی کوشش کر کے عزت اور احترام کماتے مگر انہوں نے غلط راستہ چنا۔ چونکہ میں غلط بات کو غلط کہتا ہوں اس لئے مجھے اس جھگڑے سے پیچھے رکھنے کے لئے یہ کوشش کی گئ کہ واٹسن اس طرح سے کہیں چھپ جائے گا، گھبرا جائے گا منہہ چھُپاتا پھرے گا۔ جو میرے بارے میں اس طرح سوچتے ہیں احمقوں۔ پاگلوں کی جنت میں رہتے ہیں جانتے نہی ہیں کہ یہووا پاک خدا کے نام کے بغیر میں کوئ کام کرتا ہی نہی ہوں۔ میرا اس پوسٹ لگانے والے بھائ سے کوئ جھگڑہ نہی تھا مگر وہ میری کردار کشی کرتا رہا۔ سوشل میڈیا پر کسی کی کردار کشی کرنا سب سے آسان بلکہ بچوں والا کام ہے۔ ہمیں اگر مقابلہ ہی کرنا ہے تو قوم کی بہتری کے لئے اپنے اقدامات سے مقابلہ کریں۔ شائد میں بھی آپ کے پیچھے کھڑا ہو جاؤں۔

ہم مسیحی ہونے کا دوعویٰ کرتے ہیں اور میں تو ویسے بھی گناہ گار بندہ ہوں۔ مگر پھر بھی پورے دل سے اپنی کمیونٹی کے ساتھ مل کر اس جگھڑے کو ختم کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کئے اور خدا کے کلام کے مطابق کہ جو صلاح کراتے ہیں وہ خدا کے بیٹے کہلائے گے۔ اس پر عمل کرتے رہے۔ مگر چند لوگ اس آگ پر تیل ڈالتے رہے۔ سستی شہرت کون حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ میں نے اپنی یہ پوسٹ کافی دن سے لکھی ہوئ تھی مگر میرا ظرف مجھے یہ اجازت نہی دے رہا تھا مگر آج بروز جمعہ 14 سپتمبر کو دوبارہ سستی شہرت کی ایک اور قسط دیکھی تو کہا کہ چلوں پڑھنے والوں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ پڑھیں کہ جس نے کبھی کمیونٹی لیڈرز کو فرانس میں دعوت دے کر زلیل کیا اور کمیونٹی پروٹسٹ کو ایک سیاسی پارٹی کے نام کر کے جھوٹی واہ واہ کمائ وہ ہم جیسے لوگوں پر انگلی اٹھا رہا ہے۔  ہاں ایک بات جس کا مجھے افسوس ہے اس طرح کی پوسٹ اور ویڈیوز سے دوسری قوموں کی نظر میں تماشہ بنے ہمارے مسلمان دوست ہمارے تماشے پر اپنے کومنٹس کرتے رہے۔ اب اس کا زمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔

اس کے علاوہ میں یورپ، برطانیہ ، امریکا، پاکستان اور بحرین کے تمام دوستوں اور لیڈرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے فون اور اپنے پیغامات سے میری راہنمائ کی ۔

خداوند پاک یہووا یری ہم سب کو حکمت، دانائ اور فہم عطا کرے۔

Advertisements