بروز جمعرات 7 مارچ کو دوپہر دو بجے نیدر لینڈ کے شہر دی ہیگ میں ایک امن مارچ کا انقعاد کیا گیا۔ اس مارچ کا انتظام گلوبل ہیومن رائٹ ڈفینس کی جانب سے کیا گیا، جبکہ اوورسئیز پاکستانی کرسچن آلائینس اس کے انقعاد میں پارٹنر کی حثیت سے شامل تھی۔ دوپہر دو بجے خروت کیرک دی ہیگ میں واقع ایک بڑے چرچ کے ہال میں لوکل کمیونٹی اور پاکستانی مسیحی کمیونٹی ایک بڑی تعداد میں جمح ہوئے۔ یہ ایک جلوس کی صورت میں مارچ کرتے ہوئے ڈچ پارلیمنٹ کی جانب روانہ ہوئے انہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور وہ پاکستان میں موجود اقلیتی خواتین جن مین ہندو اور مسیحی خواتین کے حقوق کے لئے نعرے لگا رہے تھے۔

ڈچ پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہو کر شرکاء نے تقاریر کیں اس کے بعد ڈچ پارلیمنٹ کے رکن مسڑ جوئیل فورد وینڈ باہر تشریف لائے تو ان کو پاکستانی اقلیتی خواتین کے حقوق کے حوالے سے پٹیشن پیش کی گئ اور درخواست کی کہ وہ ڈچ پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں اور اس حوالے سے حکومت پاکستان سے کہیں کہ وہ اقلیتوں بل خصوص خواتین کے حقوق کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق تقسیم کریں۔

شرکاء مارچ کرتے ہوئے دوبارہ اسی چرچ کے احاطے میں واپس آئے اور خواتین کے حقوق اور ان کے مسائیل پر ایک بحث کا آغاز ہوا۔ اس بحث میں نیدرلینڈ سے کیرول انجم اور برطانیہ سے معروف سیاسی راہنما ایسٹر داس نے حصہ لیا اور بڑی کامیابی سے مدلل گفتگو کی۔ اس مظاہرے کی خاص بات یہ تھی کہ اوور سئیز پاکستانی کرسچن آلائینس کے فرانس کے نمایندے بھی اس مین شریک ہوئے جبکہ بیلجئم کے وفود بھی اس مظاہرے کا حصہ تھے۔ مظاہرے کے آخری حصے میں معروف پاکستانی گاسپل سنگر سنبل نورین نے گیت گا کر محفل مین رنگ بکھیر دیئے۔

IMG_3480.JPGIMG_3475.JPGIMG_3474.JPG