برطانیہ ، یورپ (نیوز:سیمسن جاوید ) برطانیہ میں مقیم مسیحی سماجی رہنما اور اٹارنی چرچ آف سکاٹ لینڈ ڈاکٹر پیٹر ڈیوڈ،ایکٹو سٹ قمر رفیق ،پاکستان کرسچن پریس کلب یوکے کے صدر سیمسن جاوید،جون باسکو،ڈاکٹر اختر انجیلی،نعیم واعظ،عمانوئیل رفائیل،سرفراز تبسم،پریس آف پاکستان یوکے کے صدر شفیق الزمان، جاوید بھٹی۔ آ ئی سی سی کے چیئرمین ایڈوکیٹ قمر شمس، تسکین خان جنرل سیکرٹری عمران جوزف،سلیم مٹو،سلوسٹرکھوکھر، ، اے پی پی جی کے جنرل سیکرٹری مورس جان۔برمنگھم سے اوورسیز کرسچن کمیونٹی کے چیئرمین پاسٹر اجمل چغتائی،سینئر وائس چیئرمین بابر شاکر۔وارنگٹن سے بشپ ڈاکٹر یوسف ندیم بھندر۔سابق رکن سندھ اسمبلی سلیم کھوکھر،سابق رکن سندھ اسمبلی اسٹیفن آصف پیٹر، کونسلر کاشان بارنٹ،آستر کھوکھر اور پی ٰیم آر او کے چیئرمین آصف مل ،عظیم مسیح اور دیگر رہنماو¿ں نے لندن میں منعقد ایک ہنگامی اجلاس میں شرکت کی۔ اور اس کے علاوہ ویڈیو لنک کے ذریعے اٹلی سے آل پاکستان کرسچن لیگ کے کو۔ چیئرمین سرور بھٹی،اے پی سی ایل اوورسیزصدر چوہدی عارف،اے پی سی ایل کے لیگل ایڈوائزر ایڈووکیٹ آف سپریم کورٹ جے جے جارج فرانس ،جرمن سے طارق رندھاوا،فرانس سے فاروق عنصر،آصف گل،ڈنمارک سے اے پی سی ایل کے بانی رکن نواز سلامت،ہالینڈ سے واٹسن گل۔امریکہ سے زیبا گل ، کینڈا سے پرویز مسیح،خالد گل اور دیگر ممالک سے مسیحی رہنماوں نے بھی خطاب کرتے ہوئے عنایت اللہ لک ، ڈائریکٹر جنرل پارلیمانی امور پنجاب اسمبلی کے ممبر سابق صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق اور اقلیتوں سے متعلق قائمہ کمیٹی کے چیئرمین جناب طاہر خلیل سندھو کی مذہب کی بنیاد پر تضحیک کر نے پر شدید مذمت کی۔

شرکاءنے مزید کہا کہ یہ نہ صرف صوبائی اسمبلی کے رکن جناب خلیل طاہر سندھو کی بلکہ پوری مسیحی قوم کی تضحیک ہوئی ہے ۔یا د رہے کہ طاہر خلیل سندھو 28 جولائی 2019 کو ، فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے 11 سالہ مسیحی لڑکے بادل کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل سے متعلق ‘ توجہ دلاو¿ ‘ نوٹس جمع کروانے کے لئے عنایت اللہ لک کے دفتر گئے ، تو عنایت اللہ لک نے انہیں نہ صرف ہراساں ورسوا کیا بلکہ انہیں ‘چوہرا’ جیسے مکروہ اور حقیر لقب سے بھی نوازا ۔ آنسو بھری آنکھوں سے رکن اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے صوبائی اسمبلی کے ممبران کو مخاطب کرتے ہوئے یہ سوال پوچھا کہ کیا پاکستان میں مسیحی ہونا جرم ہے؟۔ جس کے بعد انہوں نے اسپیکر کے سامنے بھر پور احتجاج کیا۔ برطانیہ اور یورپ میں موجود پاکستانی مسیحی اس نفرت انگیز زبان کے استعمال سے سخت رنجیدہ ہیں۔ اس طرح کے امتیازی الفاظ سے نہ صرف طاہر خلیل سندھو ، بلکہ پاکستان ، برطانیہ اور دنیا بھر کے لاکھوں پاکستانی مسیحیوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی تذلیل ہوئی ہے۔ ہم وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ عنایت اللہ لک کے خلاف فوری اور مضبوط کارروائی کریں اور تمام مذاہب کے احترام اور وقار کی اقدار کو برقرار رکھیں۔ شرکاءنے برطانوی سیکریٹری خارجہ مذہبی آزادی اور عقیدے کے خصوصی ایلچی لارڈ احمداور یورپ میں مذہبی آزادی کے خصوصی ایلچی جان فیگل سے بھی درخواست کی کہ وہ اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی مذہبی عدم رواداری کے حوالے سے حکومت پاکستان سے بھی اس معاملہ پر آواز اٹھائیں۔